کراچی (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کو کہا کہ سندھ اسمبلی نے سندھ میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کے مطالبات پر "فل اسٹاپ" لگا دیا ہے، اور صوبے کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔
لیاری میں بحال کیے گئے اسپینسر آئی ہسپتال کے افتتاح کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا: "صوبے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے اور بارہا بیان کیا جا چکا ہے۔ سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ سندھ کی قسمت کا فیصلہ صرف سندھ کے عوام کر سکتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں میں نفرت اور تقسیم پھیلانا سیاست دانوں کا کام نہیں ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ آیا وفاقی حکومت یا اس کی اتحادی جماعتوں نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر، جس میں 18ویں ترمیم میں تبدیلیاں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں، پیپلز پارٹی سے مشاورت کی ہے، بلاول نے کہا کہ ایسا نہیں کیا گیا۔
"ایک پیسے کا کام نہیں کیا"
بلاول نے وفاقی کابینہ میں شامل کراچی سے تعلق رکھنے والے ارکان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا: "کراچی سے تعلق رکھنے والے جو لوگ وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں، انہوں نے شہر کے لیے ایک پیسے کا کام نہیں کیا۔" انہوں نے الزام لگایا کہ وہ اس کے بجائے کراچی میں "نفرت پھیلا رہے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مرکز کی حیثیت سے اس شہر کو وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے، اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس پر زیادہ توجہ دے۔
مہنگائی اور بے روزگاری کے زیادہ ہونے اور بجلی کے بلوں کے باعث گھرانوں پر پڑنے والے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسپینسر آئی ہسپتال، جو 1940 میں قائم ہوا تھا، اب شمسی توانائی پر چل رہا ہے، اور بلاول نے کہا کہ وہ اسی طرح کے انتظامات پورے لیاری میں پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ رہائشیوں کو سستی بجلی مل سکے۔
صوبوں پر بحث
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، جس کی قیادت خالد مقبول صدیقی کر رہے ہیں اور جس میں مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار شامل ہیں، سندھ میں نئی انتظامی اکائیوں کے حق میں سب سے نمایاں آواز رہی ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری علاقوں کو اپنے وسائل اور خدمات پر زیادہ اختیار درکار ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی مزید صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ نظام انصاف اور مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
پیپلز پارٹی سندھ کی کسی بھی تقسیم کو مسترد کرتی ہے۔ 3 ستمبر کو سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں صوبے کو تقسیم کرنے یا اس کے اضلاع کو الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی گئی۔ آئین کی شق 239(4) کے تحت صوبے کی حدود میں تبدیلی کی کسی بھی ترمیم کو صدر کو بھیجے جانے سے پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہوتی ہے۔



