سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ آئین کو مدنظر رکھے، ہم مفروضوں پر نہیں چل سکتے۔ الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے، جو نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے اور نہ ہی کسی اور کے۔ مداخلت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب الیکشن کمیشن کا کوئی اقدام غیر آئینی ثابت ہو۔ الیکشن کمیشن کی تقرری حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔
تحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں ہے، سرٹیفکیٹ دوسری جماعت کا جمع کرایا اور کہا کہ منسلک تحریکِ انصاف سے ہوں۔ اسوقت کے صدر عارف علوی نے اختیار ہونے کے باوجود الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔
جب آمر آئے تو سب ساتھ مل جاتے ہیں، وزیر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں اور جب جمہوریت آئے تو چھریاں نکال کر آ جاتے ہیں، اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں، آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے۔
الیکشن کمیشن نے منت کی تھی کہ انتخابات کرا لیں، کیا تحریکِ انصاف کو ہم نے کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرائیں؟ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا اپنی جماعت سے الیکشن نہیں لڑے، اس جماعت میں شامل ہو کر سیاسی خودکشی کیوں کی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہے، یہ سلسلہ مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوا، عدلیہ اس مداخلت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور جلد اس کا خاتمہ ہونے والا ہے، ایک جج کو کسی کا ڈر نہیں ہونا چاہیے۔
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.