The Thursday Times’ Pakistani news section dives into the pulse of Pakistani politics, offering sharp analysis and timely updates on the decisions and debates shaping the nation’s future, from the corridors of power to grassroots movements.
Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.
Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.
سابق وزیراعظم عمران خان نے قبل از انتخابات کی خواہش میں پاکستان کو ایک آئینی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس معاملہ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال مرکزی کردار بن چکے ہیں جنہوں نے عمران خان کی جانب سے دو صوبوں کی اسمبلیوں کو تحلیل کیے جانے کے بعد ازخود نوٹس لے کر انتخابات کا حکم جاری کیا۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شاہی محل میں ملاقات ہوئی جس میں مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف بھی شریک تھییں۔
Bilawal Bhutto-Zardari's attendance at the SCO meeting at Goa marks the first visit by a prominent Pakistani leader to India since 2014, a reflection of Pakistan's newfound commitments to the principles of the SCO Charter.
آئین میں سوموٹو کا لفظ استعمال نہیں نہیں ہوا، یہ شق سپریم کورٹ کو شرائط کے ساتھ بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے کوئی کام کرنے کا اختیار دیتی ہے، یہ شق دراصل ان مظلوموں کیلئے رکھی گئی تھی جو عدالت تو دور وکیل تک نہیں پہنچ سکتے، اس شق کو کسی ایک فرد کو فائدہ پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ میری رائے کے مطابق اس شق کا اختیار چیف جسٹس نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے پاس ہے۔
نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ آنے والے عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کو سیاسی جبر،خارجہ تعلقات میں سرد مہری، سرمایہ کاری میں کمی، عدم استحکام اور دیوالیہ پن کا سامنا رہا۔ اقتدار سے عدم اعتماد کے ذریعہ نکالے جانے کے بعد عمران خان نے ملک میں افراتفری برپا رکھی جس سے بحران کا شکار ملک مزید غیر مستحکم ہورہا ہے۔
برطانوی جریدے "دی ٹیلی گراف" میں 21 اکتوبر 2007 کو عمران خان نے بینظیر بھٹو کو خود کارساز بم دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سانحہ ناگزیر تھا اور اس کا سب کو انتظار تھا۔
عمران خان کا دوسری مرتبہ حکومت میں آنا ممکنہ طور پر پاکستان کے اندرونی مسائل میں مزید اضافہ کر دے گا اور پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی خرابی کا بھی باعث بن سکتا ہے۔
تحرک عدم اعتماد کے موقع پر جنرل باجوہ نے ہمیں بلایا اور کہا کہ اگرآپ تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں تو میں عمران خان کو استعفی دینے پر راضی کرلونگا جس پر ہم نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا تو اس پر جنرل باجوہ نے کہا کہ پھر میں پانچ منٹ میں مارشل لا لگا سکتا ہوں۔
حریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور بشریٰ نامی خاتون کا نکاح غیر شرعی تھا کیونکہ اس وقت تک بشریٰ کی خاور مانیکا سے طلاق کے بعد عدت کا وقت مکمل نہیں ہوا تھا۔ مفتی سعید نے بتایا کہ انہیں اس معاملہ سے لاعلم رکھا گیا اور جھوٹ بولا گیا کہ نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ حقیقت سے واقف تھے۔
اللہ تعالی کے سائے کے بعد آئین پاکستان کا سایہ ہمارے سر پر ہے یہ ہماری اور پاکستان کی پہچان ہے یہ کتاب پاکستان کے منتخب نمائندوں نے مشترکہ طور پر منظور کیا اسلئے اسکی اہمیت ہمیں پہچاننا اور عمل کرنا چاہیے۔
عمران خان نے دعوی کیا کہ ان کے دور میں میڈیا آزاد تھا اور میڈیا کو جتنی آزادی تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں ملی، اتنی پہلے کبھی نہیں ملی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کیا ہوا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظاہراکبر نقوی، جسٹس منیب اختراور جسٹس اعجازالاحسن کیخللف ریفرنس دائر کرنے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔