افتخار محمد چوہدری کے بعد سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے کرتوتوں سے ہر شخص واقف ہے۔ اس درندہ صفت انسان نے نواز شریف اور شہباز شریف سے دشمنی کی بنا پر پاکستان لیور اینڈ کڈنی ہسپتال کا بیڑہ غرق کیا اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اس جج نے "ڈیم فنڈ" کے نام پر پاکستانی قوم کو چونا لگایا اور آج تک ان چندے کے پیسوں کا کوئی حساب ہی نہیں ہے کہ جو اربوں روپے اکٹھے کیے گئے تھے وہ کہاں ہیں؟ چند ماہ قبل جب ثاقب نثار سے چندے کے پیسوں کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ پیسہ کہاں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میری چئیرمن واپڈا سے بات چیت ہوتی رہتی ہے اور وہ پیسہ ہم نے انویسٹ کیا ہے جس کا منافع ہمیں مل رہا ہے۔ یہاں پر پاکستانی قوم ثاقب نثار سے سوال پوچھتی ہے کہ ہم نے آپ کو پیسہ ڈیم بنانے کے لیے دیا تھا ناکہ انویسٹ کرنے کے لیے۔ اگر آپ نے پیسہ انویسٹ کرنا ہے تو اپنے ذاتی پیسوں میں سے کریں اور اس میں سے منافع کمائیں۔ آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ چندے کے پیسوں کو بطور کاروبار استعمال کریں۔ یقیناً یہ کرپشن کا بہت بڑا سکینڈل ہے اور جب کوئی حکومت ان چندے کے پیسوں کا آڈٹ کروائے گی تو ثاقب نثار کے علاوہ اور بہت سے کردار منظر عام پر آئیں گے جنہوں نے پاکستانی قوم کو چونا لگایا۔
اسلامی اصولوں یا اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھا جائے تب بھی موجودہ حالات میں روس کی حمایت غلط بلکہ جرم ہے اور اگر کشمیر کے متعلق دنیا میں پاکستان کے مؤقف کو دیکھا جائے تب بھی یوکرین کی حمایت نہ کرنا بہت بڑی غلطی ہے جس کا بھاری خمیازہ مستقبل میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
An opinion contributor asks a daring question in the reign of an increasingly authoritarian Prime Minister—does the concept of trust continue to exist?
ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آ گیا لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بالآخر اپوزیشن نے اپنی پٹاری سے عدم اعتماد کا جن باہر نکال ہی لیا۔ عدم اعتماد آنے کے بعد جو حالت وزیراعظم عمران خان کی ہے وہ بیان کرنے کے لیے تو میرے پاس الفاظ نہیں ہیں البتہ عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کے ممکنات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
کبھی کسی کو بلاوجہ کیوں اٹھا لیا جاتا ہے۔اسے ایک اذیت نما کمرے میں بند کرکے جسمانی اور دماغی تشدد کیا جاتا ہے۔اس کی خوراک کو کم کیا جاتا ہے۔روشنی کو چھین لیا جاتا ہے۔اس پر غلیظ زبان میں نہیں جانتا یہ شاید میری جاننے کی استطاعت یہ نہیں ہے اور یاکہ میں اس مزاج سے نفرت کرتا ہوں۔نفرت اس لیے شاید میری کہانیوں کی انبار میں اسے کہانی نہیں کہا جاتا یہ یا کہانی نہیں بلکیں سامراجی نقل ہے۔ استمعال کیا جاتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.