اگر اعتبار ہوتا

An opinion contributor asks a daring question in the reign of an increasingly authoritarian Prime Minister—does the concept of trust continue to exist?

رائے دیں
یہ تحریر سنیںاگر اعتبار ہوتا3 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 2:55

2014 میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک شخص نے اعلان کیا ‏”جلا دو، گرا دو، مار دو، آگ لگا دو، یہ ایسے نہیں جائیں گے،” وہ آج اس ملک کا وزیر داخلہ ہے اور پر امن احتجاج پر قانون کی حرکت میں آنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ 

 صدر مملکت کی کرسی پر وہ شخص براجمان ہے جس نے پی ٹی وی پر حملے کی قیادت کی اور اپنے لیڈر کو اس تاریخی کامیابی کی نوید سنائی، وہی لیڈر آج ملک کا وزیراعظم ہے، جس نے 126 تک دارلحکومت کو یرغمال بنائے رکھا یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان تک کوعقبی دروازوں سے اپنے کورٹ روم جانا پڑتا تھا ،جس نے سول نافرمان پرعوام کواکسایا، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس آئی جی کو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دینے کے اعلانات کئے۔

 وزرات دفاع کا قلم دان اس جیمز بانڈ کے پاس ہے جس نے ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے دارلحکومت کے سومنات پر متعدد بار حملے کئے۔ گھمسان کی آخری لڑائی برہان کے مقام پر اس وقت لڑی گئی جب سی پیک کا پہلا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔چینی صدر کی آمد پر جو احتجاج کیا اور راستے بند کئے گئے، وہ ہزیمت تاریخ کا حصہ بن کر ہمیشہ کے لئے چین سے تعلقات میں خرابی کا باعث بن گئی۔ یہ شخص اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اسلام آباد کے پارلمینٹ لاجزز میں رہائش پذیر ہوتا تھا۔جہاں یہ لوگ دن کے وقت سرکاری ذرائع سے عیش و عشرت جبکہ رات کو اسی سرکار کے خلاف ڈی چوک میں ڈانس پارٹی کیا کرتے تھے۔

آج اسی پارلمینٹ لاجز میں اپوزیشن کے اراکین پارلیمان کو بھی رہنے کا حق حاصل نہیں،ان پر پولیس کے ذریعے تشدد کروایا گیا، گرفتاریاں کی گئیں اور ان کی پگڑیاں اچھالی گئیں آج اسی پارلمینٹ لاجز میں اپوزیشن کے اراکین پارلیمان کو بھی رہنے کا حق حاصل نہیں،ان پر پولیس کے ذریعے تشدد کروایا گیا، گرفتاریاں کی گئیں اور ان کی پگڑیاں اچھالی گئیں۔

یہ برگ انتشار راتوں رات تناور نہیں ہوا۔

یہ بائیس سالہ جدوجہد کا وہ ثمر ہے جس کا خواب حمید گل اینڈ کو نے دیکھا، کیانی، پاشا و ظہیر اسلام نے خون پسینے سے پروان چڑھایا اور انجام کار تک انہوں نے پہنچایا جو آج بڑے اطمینان سے غیر جانبدار بنے بیٹھے ہیں۔

سات دہائیوں تک جنہوں نے سیاست کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا وہ اب بار بار بار تنبیہ کررہے ہیں کہ ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، اس گندگی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

ہم خوشی سے مر نہ جاتے

اگر اعتبار ہوتا۔


The contributor, Shabana Shaukat, writes for a variety of digests and magazines in Pakistan.

Reach out to her @ShabanaShaukat4.

ادارتی صفحے کا مضمون

تھرسڈے ٹائمز میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں؟ ہماری سبمشنز ٹیم سے رابطہ کریں! ای میل: views@thursdaytimes.com

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media