مسلم لیگ (ن) کے منشور میں عوام کی ہر تکلیف کا احساس ہے، ہم اللّٰه کی مدد سے ہر وعدہ پورا کریں گے، ایک جماعت نے منشور پیش نہیں کیا لیکن پورا پاکستان جانتا ہے کہ اس کا منشور پیٹرول بم اور کیلوں والے ڈنڈے ہیں۔
ہمیں بار بار اقتدار سے نکالا گیا اور ہم ہر بار جیلیں اور جلاوطنی کاٹ کر واپس آئے، ہم نے 2022 میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کی بھاری سیاسی قیمت ادا کی اور آئندہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہمارا راستہ نہ روکا جانا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات 2024 کیلئے انتخابی منشور پیش کر دیا جس کے مطابق نیب کا ادارہ ختم کیا جائے گا، مالی سال 2025 تک مہنگائی میں 10 فیصد کمی لائی جائے گی جبکہ چار سالوں میں مہنگائی کو 4 سے 6 فیصد تک لایا جائے گا، منشور میں فی کس آمدنی کو پانچ برس میں 2 ہزار ڈالرز کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ انہوں نے میچ فکس کر لیا ہے لیکن 8 فروری کو تیروں کی بارش ہو گی، ہم شیر کا شکار کریں گے اور اشرافیہ سے وسائل لے غریبوں پر خرچ کریں گے، ہم مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نہیں چل سکتے۔
اگر کسی نے حقیقی معنوں میں جنوبی پنجاب کی خدمت کی ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے، دیگر جماعتیں صرف سیاست چمکانے کیلئے جنوبی پنجاب کو استعمال کرتی ہیں، شیر کو جتنے زیادہ ووٹ ملیں گے پاکستان اتنی تیزی سے ترقی کرے گا۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔