عمران خان نے برطانیہ کے قومی نشریاتی ادارہ ”بی بی سی“ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کیا گیا تو اس کا ردعمل آنا ہی تھا، جب میرے حامیوں نے دیکھا کہ مجھے گرفتار کر کے لے جایا جا رہا ہے تو کیا میرے حامی کوئی ردعمل ظاہر نہ کرتے؟
احتساب کرنا اور گرفتار کرنا میرا کام نہیں بلکہ اداروں کا کام ہے اور اداروں کو درست معلومات فراہم کرنا ہمارا فرض تھا جو ہم نے ادا کیا، ہماری حکومت نے کسی کو بھی ناجائز تنگ نہیں کیا۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو فی الحال ڈیڑھ سو سے زائد مقدمات کا سامنا ہے جن میں متعدد مقدمات ایسے بھی ہیں جو نہ صرف انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا سکتے ہیں بلکہ ان کے سیاسی مستقبل کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں یعنی سابق وزیراعظم ہمیشہ کیلئے سیاسی میدان سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔
جو کچھ 9 مئی کو ہوا اس کی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے کیونکہ اسی کا لگایا ہوا اور اسی کا پانی دیا ہوا پودا نکلا اور پھر اس کو بڑا کیا گیا اور درخت بنا دیا گیا، جنہوں نے لوگوں کے ذہن میں یہ زہر بھرا وہ اس وقت کے مسلسل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر تھے جن کو ہم ڈائریکٹر نیوز کہتے تھے جو ساری خبروں اور کرنٹ افیئرز کے پروگرام کو ہدایات جاری کرتے تھے۔
میری جماعت کی تمام قیادت روپوش ہے اور قریباً 10 ہزار کارکنان جیلوں میں ہیں، جلد یا بدیر مجھے بھی جیل میں ڈال دیا جائے گا، کیا ایسے حالات میں میری پارٹی کو الیکشن لڑنے دیا جائے گا؟
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔