دنیائے کرکٹ کا سب سے دلچسپ مقابلہ سمجھا جانے والا پاک بھارت ٹاکرا ایک بار پھر شائقینِ کرکٹ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، پاکستان آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں دوسرے جبکہ بھارت تیسرے نمبر پر براجمان ہے۔
خالصتان تحریک سے نمٹنے کیلئے بھارت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، دونوں ممالک انٹیلی جینس معلومات بھی شیئر کر رہے ہیں۔ برطانیہ انتہا پسندی اور تشدد کی کسی بھی شکل کو قبول نہیں کرتا، برطانوی وزیراعظم کی نئی دہلی میں گفتگو
پاکستان کئی دہائیوں سے مسلسل دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس جنگ میں لاکھوں جانیں گنوا چکا ہے جو خطہ میں ناکام امریکی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
ان بھارتی افسران کو گذشتہ آٹھ ماہ سے قطر میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان پر اسرائیل کیلئے جاسوسی کا الزام ہے۔ علاوہ ازیں تقریبا 75 ہندوستانی شہریوں کو، جن میں سے اکثریت سابق ہندوستانی بحریہ کے اہلکاروں کی ہے، کو بتایا گیا ہے کہ قطر میں انکے کام کا آخری دن 31 مئی کو ہوگا۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔