دہشتگردی ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کر نہیں بلکہ للکار کر مارتے ہیں۔ معرکہِ حق میں اللّٰه کی مدد و نصرت سے فتح ملی۔ تمام مسلم ممالک میں سے حفاظتِ حرمین کا شرف پاکستان کو حاصل ہوا، دفاعی معاہدہ تاریخی ہے۔
شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ریاست کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث دہشتگردوں کو قیمت چکانا ہو گی۔ دہشتگردی کو اس کے سہولت کاروں سمیت شکست دیں گے۔ پاکستان میں دیرپا اور پائیدار امن کا قیام یقینی بنائیں گے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر۔
پاکستان میں 2018 کے بعد سے دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، ہم سب بلوچستان میں ہونے والے دلخراش واقعات پر غمزدہ ہیں، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم انشاءاللّٰه دہشتگردی کا سر کچل دیں گے، ترقی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ دور کریں گے۔
اب ان کے لیے بس مجھے قتل کرنا باقی بچا ہے لیکن میں موت سے نہیں ڈرتا کیونکہ میرا ایمان مضبوط ہے، میں غلامی پر موت کو ترجیح دونگا۔ میں کھلے عام کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یا میری اہلیہ کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار آرمی چیف ہوں گے، عمران خان۔
COAS General Asim Munir condemns social media-driven fake news and baseless allegations against military, vowing legal action against May 9 instigators, focusing on a commitment to national stability and counter-terrorism efforts during the 263rd Corps Commanders’ Conference.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔