پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی اور معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہے۔ حکومتی معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی معاونت سے مالیاتی استحکام پیدا ہو رہا ہے، جبکہ ڈالر کے ذخائر اور سرمایہ کاری میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ عوامل ملکی معیشت کی بحالی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کو غم کھائے جارہا ہے اگر معیشت سنبھل گئی تو انکو کون پوچھے گا، 2014 دھرنوں کی صورتحال دوبارہ دہرائی جا رہی ہے جس کا مقصد ملک کی ترقی کو روکنا ہے۔ سیاسی احتجاج اور دھرنوں سے ملکی معیشت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
Pakistan has received final approval to initiate a $7 billion loan program from the International Monetary Fund (IMF), unlocking vital financial support to stabilize the country's recovery from a severe economic crisis.
مسلم لیگ (ن) واحد جماعت ہے جو مشکل ترین حالات میں عوام کو ریلیف دینا جانتی ہے، پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیز نے ملک کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا، مسلم لیگ (ن) عوام کو مہنگائی و بجلی کے بھاری بِلز سے نجات دلائے گی اور معیشت کی مضبوطی کیلئے جو بھی کرنا پڑا کرے گی۔
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’’فچ‘‘ نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹنگ ’’سی سی سی‘‘ سے اپ گریڈ کر کے ’’سی سی سی پلس‘‘ کر دی۔ یہ پاکستان کے مالیاتی انتظام، بین الاقوامی حمایت اور معاشی استحکام کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔