یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک کی فہرست سے خارج کرنے کی خبر یقیناً ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ پاکستان کیلئے ایک بڑی تجارتی اور سفارتی کامیابی ہے جس کا کریڈٹ بہرحال موجودہ وفاقی حکومت کو جاتا ہے جس کی مؤثر خارجہ پالیسی اور معاشی معاملات میں اصلاحات کے باعث یہ ممکن ہو سکا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیمطابق چین کے چائنہ ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو700 ملین ڈالر کی رقم موصول ہوگئی ہے جس سے پاکستان کے زرمبادخلہ چار ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
لگژری آئیٹمز پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے جبکہ روز مرہ استعمال کی چیزیں جن میں گندم، چاول، دودھ،دالوں، سبزیوں، پھلوں، مچھلی، انڈوں، گوشت وغیرہ شامل ہیں ہر جی ایس ٹی بڑھایا نہیں جارہا۔
ایم ایف سے معاہدہ میں مشکلات کی سب سے بنیادی وجہ تحریک انصاف حکومت کی معاہدہ کی خلاف ورزی تھی انہوں نے نہ صرف معاہدہ کو توڑا بالکہ جاتے جاتے اس معاہدہ کو توڑ بھی دیا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کو پاکستان پر اعتبار نہیں رہا تھا۔
The US Supreme Court ruled that President Trump’s sweeping emergency tariffs were unlawful, curbing a signature trade strategy and opening the door to large-scale refund claims from businesses that paid the duties.
واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے باہر سِکھ کارکنوں کا مظاہرہ، پنجاب کی بھارتی قبضہ سے آزادی کیلئے ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کا مطالبہ کر دیا۔ مظاہرین نے ’’بورڈ آف پیس میں خالصتان تحریک کی شمولیت‘‘ کی صورت میں 1 بلین ڈالرز تعاون کی پیشکش بھی کر دی۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔