بینک آف امریکا نے پاکستان کا درجہ مارکیٹ ویٹ سے بڑھا کر ہیوی ویٹ کرنے کے تجویز دے دی، پاکستان میں عام انتخابات نے سیاسی بےیقینی کو کم کیا جس سے پاکستان کے ڈالر بانڈز میں عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔
نواز شریف کی عدالتوں سے بےگناہی ثابت ہونے اور بریت سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، ملکی ڈالر بانڈز کارکردگی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر آ گئے، انتخابات میں نواز شریف کو بڑے حریف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کی حمایت سے دستبردار ہونے کا عندیہ دے دیا، تحریکِ انصاف برسرِ اقتدار آنے کی صورت میں آئی ایم ایف معاہدے پر عملدرآمد نہیں کرے گی۔
پاکستانی سٹاک مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین مارکیٹ بن گئی ہے، جون کے آخر سے اب تک ہنڈرڈ انڈیکس میں 50 فیصد اضافہ ہوا، سیاسی و معاشی استحکام کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بھارت نے ہماری 1990 والی معاشی پالیسی اپنا کر ترقی حاصل کی، ہماری وہ پالیسی یہاں جاری رہتی تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے ہوتا، جب بات پاکستان کی ہو تو ہم فیصلے کرتے ہوئے ذاتی مفادات اور نقصانات نہیں دیکھتے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔