فوج قربانیاں دے رہی ہے اور اس کی جتنی عزت کی جائے کم ہے، ہمارے شہداء ہمارے محسن ہیں، ایک سیاسی جماعت نے شہداء کا مذاق اڑایا ہے، یہ لوگ دشمنی میں بہت دور جا چکے، کوئی بھی جماعت ایسی حدود سے تجاوز کرے گی تو انجام اچھا نہیں ہو گا۔
میرے قائد نواز شریف ہیں جو معمارِ پاکستان ہیں، پاکستان کا جی 20 میں شمولیت کا ہدف 2030 ہے، خارجہ پالیسی میں کسی گریٹ گیم کا حصہ نہیں بنیں گے، سانحہ 9 مئی کے مجرم ہر صورت قانون کا سامنا کریں گے، فلسطین اور کشمیر میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے، میثاقِ معیشت اور میثاقِ مفاہمت کی دعوت دیتا ہوں۔
تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کے ساتھ معاہدہ کو عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات اور سیاسی استحکام سے مشروط کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
بینک آف امریکا نے پاکستان کا درجہ مارکیٹ ویٹ سے بڑھا کر ہیوی ویٹ کرنے کے تجویز دے دی، پاکستان میں عام انتخابات نے سیاسی بےیقینی کو کم کیا جس سے پاکستان کے ڈالر بانڈز میں عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔
نواز شریف کی عدالتوں سے بےگناہی ثابت ہونے اور بریت سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، ملکی ڈالر بانڈز کارکردگی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر آ گئے، انتخابات میں نواز شریف کو بڑے حریف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.