نواز شریف نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ملکی معیشت کو سنبھالنے میں بہترین کردار ادا کیا، مسلم لیگ (ن) کے ادوارِ حکومت میں شہریوں کو کم از کم معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، نئی حکومت کو مشکل ترین معاشی چیلنجز کا سامنا ہو گا۔
نو مئی کی سازش پاکستان کے ساتھ غداری تھی جس ک سرغنہ عمران خان تھا، اس غداری میں فوج اور عدلیہ میں موجود اس کے حواری بھی شامل تھے، نواز شریف نے دھمکیوں کے باوجود پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوں گے۔
میں 19 ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ بات کرنے کیلئے تیار ہوں، میں جنرل (ر) باجوہ کی باتوں میں آ گیا تھا لیکن اس میں فوج کا کوئی قصور نہیں، آئندہ انتخابات میں 90 فیصد فوجی تحریکِ انصاف کو ووٹ دیں گے، کمزور حکومت بنانے سے بہتر ہو گا کہ اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں۔
حکومت ختم ہونے کے بعد جنرل قمر باجوہ سے ایوانِ صدر میں دو بار مذاکرات ہوئے، جنرل باجوہ نے کہا اچھے بچے بن جاؤ دو تہائی اکثریت دلاؤں گا، پلان سی تیار ہے 8 فروری کو پتہ لگ جائے گا، میں نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی۔
دوسروں کا احتساب کرتے ہوئے فرعون بننے والے آج جوتیاں چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں، نواز شریف کے تمام دشمن اپنے اصل انجام کو پہنچ رہے ہیں، قدرت کی عدالت نے نواز شریف کے ساتھ ہونے والے مظالم پر سو موٹو ایکشن لے لیا ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔