امارتِ اسلامیہ کے پچاس ہزار افراد خیبرپختونخوا میں داخل ہو چکے، پاکستان کی حکومتی رٹ کمزور پڑ رہی ہے، مغرب کے بعد پولیس سٹیشنز بند ہو جاتے ہیں، خدشہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں امارتِ اسلامیہ کا قیام عمل میں آ جائے گا۔
آپریشن عزمِ استحکام کے سیاسی مقاصد نہیں، سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کریں گے، پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی، آپریشن دہشتگردی کی بڑھتی لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہے، کامیابی کیلئے تمام اداروں کی حمایت ضروری ہے۔
جس جماعت نے الیکشن میں حصہ ہی نہیں لیا وہ سیاسی جماعت کی تعریف میں کیسے آ سکتی ہے؟ مفروضوں کی بنیاد پر یہاں آگے نہیں بڑھ سکتے، ایک کاغذ کے ٹکڑے پر آپ پارٹی کہہ رہے ہیں مگر آپ نے تو الیکشن ہی نہیں لڑا۔ جس سیاسی جماعت سے انتخابی نشان لے لیا گیا، کیا اس جماعت کے امیدواروں پر پابندی عائد کی گئی تھی کہ وہ کسی دوسری جماعت سے الیکشن نہیں لڑ سکتے تھے؟
مولانا فضل الرحمٰن ایک بار پھر آئندہ پانچ برس کیلئے جمعیت علمائے اسلام کے امیر منتخب ہو گئے۔جمہوریت ایک ماحول کا نام ہے جس میں عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے، اسلامی مملکت میں جبری امامت نہیں ہوتی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔