ACROSS TT

News

Spain beat Argentina 1-0 after extra time to win 2026 FIFA World Cup

Spain have won the 2026 FIFA World Cup after a dramatic 1-0 extra-time victory over Argentina, ending a tightly contested final with a decisive breakthrough.

FBI captures Indian national wanted over crime network links

The FBI has confirmed the capture of Nitish Kaushal, a 26-year-old Indian national wanted over his alleged role as an enforcer for the Bhagwanpuria crime network. He was arrested in Vermont near the US-Canada border, the first confirmed capture among the fugitives named under Operation Hard Ball.

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کر دیا

وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 351 روپے 46 پیسے جبکہ ڈیزل 331 روپے 30 پیسے فی لیٹر دستیاب ہو گا۔

Argentina stun England with dramatic late comeback to reach World Cup Final

Argentina scored twice in the final minutes to complete a dramatic 2-1 comeback over England in Atlanta and advance to a second consecutive FIFA World Cup final.

China now viewed more positively than the US in most countries, Pew finds

For the first time, more people view China favourably than the US across most of 36 countries surveyed, Pew Research Center finds, with more expressing confidence in Xi than Trump. The US leads China in just six countries. In Pakistan, 84% call China a reliable partner against 36% for the US.
Newsroomآپریشن عزمِ استحکام کے سیاسی مقاصد نہیں، اپوزیشن کے تحفظات دور کریں...

آپریشن عزمِ استحکام کے سیاسی مقاصد نہیں، اپوزیشن کے تحفظات دور کریں گے، خواجہ آصف

آپریشن عزمِ استحکام کے سیاسی مقاصد نہیں، سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کریں گے، پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی، آپریشن دہشتگردی کی بڑھتی لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہے، کامیابی کیلئے تمام اداروں کی حمایت ضروری ہے۔

spot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں، اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی تشویش اور تحفظات دور کریں گے اور انہیں اعتماد میں لیں گے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام کے کوئی بھی سیاسی مقاصد نہیں ہیں، اس حوالہ سے کوئی ابہام پیدا نہ کیا جائے، یہ آپریشن چند ماہ سے دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہے اور اس کا مقصد دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہے، آپریشن عزمِ استحکام نیشنل ایکشن پلان کا تسلسل ہے، پاکستان میں دہشتگردوں کی کوئی رٹ قائم نہیں ہوئی اور آپریشن عزمِ استحکام کا ماضی میں کیے گئے آپریشنز کے ساتھ موازنہ درست نہیں ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا دہشتگردوں کو پاکستان میں پناہ گاہیں میسر کی گئیں، دہشتگردی پر قابو نہ پایا گیا تو یہ دوسروں صوبوں تک پھیل جائے گی، ماضی میں بڑے نامور دہشتگردوں کو ریلیف دیا گیا، عمران خان نے طالبان کو واپس بسانے کو بڑا احسن اقدام قرار دیا تھا، دو جنگیں ہم نے لڑی ہیں، ایک جنگ ضیاء الحق اور ایک پرویز مشرف نے لڑی جس میں امریکہ کا مفاد تھا، دہشتگردی انھی جنگوں کا شاخسانہ ہے، افغانستان میں امن ہو گیا مگر پاکستان میں امن قائم نہیں ہوا۔

راہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ماضی میں بھی دہشتگردی کے خلاف آپریشنز کیے گئے جبکہ آپریشن عزمِ استحکام بھی دہشتگردوں کے خلاف ہی کیا جائے گا تاہم ماضی اور اب کی صورتحال میں ایک بنیادی فرق ہے، آج فاٹا کا انضمام ہو چکا ہے، تب سوات اور فاٹا سمیت کئی قبائلی اضلاع میں دہشتگردوں کا قبضہ ہو چکا تھا اور پورے پورے علاقے ’’نو گو ایریا‘‘ بن چکے تھے مگر اب صورتحال ایسی نہیں ہے، آج تمام علاقوں میں ریاست کی رٹ موجود ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی نے آپریشن عزمِ استحکام کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے سیاسی جماعتوں کی تشویش اور تحفظات کو دور کیا جائے گا اور پارلیمنٹ میں اس پر بحث بھی کی جائے گی اور ہم تمام سوالات کا جواب دیں گے، آپریشن کے خدوخال ابھی واضح نہیں تاہم کچھ دنوں تک واضح ہو جائیں گے، یہ بڑے پیمانے پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوں گے اور اس میں کسی قسم کی نقل مکانی کی ضرورت نہیں ہو گی۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایپکس کمیٹی سانحہ پشاور کے بعد وجود میں آئی تھی، ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہی آپریشن عزمِ استحکام کا فیصلہ ہوا ہے جبکہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلٰی موجود تھے اور ان میں سے کسی نے بھی آپریشن عزمِ استحکام کی مخالفت نہیں کی، وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا نے بھی ایپکس کمیٹی میں کوئی اختلاف نہیں کیا بلکہ دبے الفاظ میں اس آپریشن کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا آپریشن عزمِ استحکام میں کوئی علاقہ واپس نہیں لینا بلکہ صرف دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہے، آپریشن کی کامیابی کیلئے تمام تر اداروں کو اسے سپورٹ کرنا ہو گا، عدلیہ اور میڈیا اگر قومی سلامتی کی اس کوشش کو سپورٹس نہیں کریں گے تو پھر یہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکے گا، جوان روزانہ جانیں دے رہے ہیں، دہشتگردی کی ملک کے باہر سے بھی مدد ہو رہی ہے، کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ یہ ملک دنیا کیلئے ’’نو گو ایریا‘‘ بن جائے، کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ یہاں کوئی بھی نہ آئے۔

 آئے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.