In a world which rewards champagne exiles and punishes resistance, Khawaja Asif chose authenticity over platitude. In doing so, he said what much of the global south quietly thinks: those who bathe in imperial perfume do not speak for the oppressed.
فوجی کارن فلیکس اور فوجی دلیہ کی طرح عمران خان بھی فوج کا پراڈکٹ تھا۔ اببسالوٹلی ناٹ کا نعرہ لگانے والا عمران خان اب امریکا کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آنا چاہتا ہے۔ سانحہ 9 مئی میں فوری فیصلوں کی ضرورت تھی، عدلیہ کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔
پی ٹی آئی نے 12 افراد کا ذکر کیا، ابھی تک شناختی کارڈز، قبریں، ورثاء سامنے نہیں آئے۔ گنڈاپور کے گارڈز نے ورکرز پر فائرنگ کی، ویڈیو سے پتہ لگے گا گولی کس نے چلائی۔ پی ٹی آئی صوبائیت کارڈ کھیل رہی کیونکہ انکے DNA میں آمریت کے جراثیم ہیں۔
یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی ختم کر دی ہے، جو پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس پیش رفت کو یادگار موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی وزارتِ ایوی ایشن اور سی اے اے کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔
بشریٰ بی بی کے سعودی عرب پر الزامات شرمناک ہیں، یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے، بشریٰ بی بی نے مذہب کی بھی توہین کی ہے، جس ملک کے خلاف بیان دیا گیا ہے اسی سے گھڑی لے کر انہوں نے کاروبار کیا، یہ لوگ ملکی خارجہ پالیسی پر حملہ آور ہیں، وزیرِ دفاع خواجہ آصف۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.
فرانس نے بھارت کو رافیل کے بنیادی سوفٹ ویئر و حساس سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا، موجودہ شرائط کے مطابق الیکٹرونک و سوفٹ وئیر ساخت پر حتمی کنٹرول فرانس کا رہے گا۔ بھارتی فضائیہ میں سکواڈرنز کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔
The Guardian was entitled to publish Mahrang Baloch’s testimony. But readers should read it for what it is: a partisan account, sharply written and emotionally potent, not a settled version of events.