مداخلت صرف باہر سے نہیں اندر سے بھی ہوتی ہے، مداخلت آپ کے ساتھی اور فیملی بھی کر سکتے ہیں، مانیٹرنگ جج لگانا اور ایجنسیز پر مشتمل جے آئی ٹی بنانا بھی عدلیہ میں مداخلت ہے، میرے کام میں مداخلت ہو اور میں نہ روک سکوں تو مجھے گھر چلے جانا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ کے پانچ ججز کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں، خطوط میں پاؤڈر اور دھمکی آمیز اشکال بنی ہوئی ہیں، "گل شاد" نامی خاتون کی جانب سے بھیجے گئے یہ خطوط کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالہ کر دیئے گئے۔
آج کل گوبلز والے پراپیگنڈا کا زمانہ واپس لایا جا رہا ہے، ہم کسی قسم کا پریشر برداشت نہیں کریں گے، سوشل میڈیا پر جسٹس (ر) تصدق جیلانی پر ذاتی حملے کیے گئے، بہت کچھ ہو رہا ہے اور 2017 سے یہ سب چلتا آ رہا ہے، ہو سکتا ہے آئندہ فل کورٹ بیٹھے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کو کالعدم قرار دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے تاحیات نااہلی ختم کر دی۔
آرٹیکل باسٹھ میں جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر قائداعظم ہوتے تو وہ بھی نااہل ہو جاتے، ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے ڈکٹیٹر کردار سے متعلق شقیں شامل کرتے ہیں۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔