سڑک پر پھرتے شخص کو کہا گیا کہ آؤ تمہیں انصاف دیں گے، میں پوچھتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ ایسا ظلم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہم نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو واپس بھیج دیا تھا مگر پھر بعد میں کون واپس لایا تھا یہ سب جانتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے ججز نے آئین کو از سر نو تحریر کرتے ہوئے تحریک انصاف کو وہ کچھ عطا کیا جو مانگا بھی نہیں گیا تھا۔ قوم کے مجرم کو لانے کے لیے آئین کو ازسر نو تحریر کیا جارہا ہے۔ ججز کو ضمیر کے مطابق نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور جہاں ضمیر کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں وہاں آئین و قانون کا قتل ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹیکسلا اور سندر لیبر کالونیوں میں مزدوروں کے لیے 1200 سے زائد مفت فلیٹس دینے کا اعلان کردیا۔ اجلاس میں محکمہ لیبر کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور 6 ارب روپے کی واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا گیا جو پچھلی حکومت میں ادا نہیں کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، خواتین مزدوروں کے لیے ہاسٹلز اور مفت رہائش کی منظوری بھی دی گئی۔
عمران خان نے کہہ دیا کہ عدالتوں، آئین اور اداروں پر اعتماد نہیں تو ہم انصاف اور حق لیکر دکھائیں گے اور بتائیں گے آزادی کیا ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف گواہی دینے والا خیبرپختونخواہ میں نہیں رہ سکے گا، ایک ایک دن کا حساب لیں گے، تمہارا وہ حشر کریں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔
میڈیا کا احترام ہے، لیکن بغیر ثبوت کے کسی کی عزت اچھالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہتک عزت قانون کے تحت، اگر الزام ثابت نہ ہو اور بدنیتی سے لگایا گیا ہو، تو الزام لگانے والے کو سزا ملنی چاہیے۔ جرم کی تصدیق ہونے پر، مجرم چاہے کسی بھی مذہب سے ہو، اسے سزا ملنی چاہیے۔ توہین مذہب کے الزامات ذاتی حساب چکانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جو غلط ہے۔ بغیر ثبوت الزام لگانا اور قانون کو ہاتھ میں لینا بڑا جرم ہے۔
واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے باہر سِکھ کارکنوں کا مظاہرہ، پنجاب کی بھارتی قبضہ سے آزادی کیلئے ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کا مطالبہ کر دیا۔ مظاہرین نے ’’بورڈ آف پیس میں خالصتان تحریک کی شمولیت‘‘ کی صورت میں 1 بلین ڈالرز تعاون کی پیشکش بھی کر دی۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.