نواز شریف کو بار بار اقتدار سے نکالا گیا لیکن انہوں نے کبھی جھوٹا سائفر نہیں لہرایا نہ ریاست پر حملے کیے، تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کے سینے میں کئی قومی راز دفن ہیں مگر وہ کبھی انہیں زبان تک نہیں لائے۔
آٹھ فروری کے الیکشن میں 28 مئی والوں کو ووٹ دے کر پاکستان کو نواز دیں، ہم 28 مئی والے لوگ پاکستان کو سنوارنے والے لوگ ہیں جبکہ 9 مئی والے لوگ پاکستان کو اجاڑنے والے لوگ ہیں۔
کروڑوں عوام کے منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کر دیا گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا، میرا مشن پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
الیکشن تیر اور شیر کے درمیان ہے، تیر اور جیالے میدان میں لیکن شیر بلی کی طرح گھر میں چھپا بیٹھا ہے، چوتھی بار وزیراعظم بننے کی کوشش کرنے والے کے پاس منشور تک نہیں، میں عوام کا حق اسلام آباد سے چھین کر لاؤں گا۔
دوسروں کا احتساب کرتے ہوئے فرعون بننے والے آج جوتیاں چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں، نواز شریف کے تمام دشمن اپنے اصل انجام کو پہنچ رہے ہیں، قدرت کی عدالت نے نواز شریف کے ساتھ ہونے والے مظالم پر سو موٹو ایکشن لے لیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔