General Asim Munir reinforces Pakistan's commitment to eradicating terrorism, emphasising decisive military action and political unity. Security forces continue dismantling terrorist networks, strengthening national security.
ملک کے امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کا بھرپورفیصلہ کن جواب اور دہشتگردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا وہ سنگین نتائج کا سامنا کریں گے۔ پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے بلند اور وہ مادرِ وطن کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔
Pakistan’s DG-ISPR slammed past political missteps for empowering terrorism, exposed Afghanistan's role in cross-border militancy, and reaffirmed the army's unwavering commitment to eradicating threats amid escalating regional tensions with India.
شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ریاست کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث دہشتگردوں کو قیمت چکانا ہو گی۔ دہشتگردی کو اس کے سہولت کاروں سمیت شکست دیں گے۔ پاکستان میں دیرپا اور پائیدار امن کا قیام یقینی بنائیں گے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر۔
Pakistani forces neutralised Khwarij cells across Khyber Pakhtunkhwa, eliminating threats but losing six soldiers in Thall. Ongoing operations reinforce their anti-terror resolve.
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔