پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی حراست میں لے کر پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
میں نے فوج پر کبھی کوئی الزام نہیں لگایا، ہم فوج سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے، جسٹس عامر فاروق مجھے ٹیریان کیس میں پھنسانا چاہتا تھا، جماعتِ اسلامی کے دھرنا اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بلوچ عوام کی حمایت کرتا ہوں۔
پاکستان میں اقلیتوں کیخلاف بڑھتے حملے ہمارے لیے باعثِ شرمندگی ہیں، ذاتی جھگڑوں پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کیا جا رہا ہے، ملک جتنا ہمارا ہے اتنا اقلیتوں کا بھی ہے، تحریکِ انصاف آج بھی 9 مئی والی ہے اور دہشتگردوں کیساتھ کھڑی ہے۔
نو مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور سہولتکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، 9 مئی کے مجرموں کے خلاف کارروائی کے بغیر ملک ہمیشہ سازشی عناصر کے ہاتھوں یرغمال رہے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔