یومِ دفاع پاکستان کی قومی شناخت کا ایک عظیم حوالہ ہے، وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کو جتنا خراجِ عقیدت پیش کیا جائے کم ہے، فتنہ الخوارج اور اس کے سہولتکاروں کا مکمل خاتمہ کریں گے، دہشتگردی کا سر کچلنے تک ہم سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔
جنرل (ر) فیض حمید پر ریٹائرمنٹ کے بعد فوج میں بغاوت اور 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد سامنے آنے پر سزا دیے جانے کا امکان ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی حراست میں لے کر پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
میں نے فوج پر کبھی کوئی الزام نہیں لگایا، ہم فوج سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے، جسٹس عامر فاروق مجھے ٹیریان کیس میں پھنسانا چاہتا تھا، جماعتِ اسلامی کے دھرنا اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بلوچ عوام کی حمایت کرتا ہوں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔