عمران خان نے اپنی طرزِ سیاست سے پاکستان کے اندر خاندانوں میں تقسیم پیدا کر دی ہے، عمران خان کی وجہ سے خاندانوں کے اندر تعلقات اور رشتوں میں دراڑیں پیدا ہوئی ہیں جبکہ یہ تقسیمِ مزید گہری ہو رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کو انتخابی نشان "شیر" ملنے کی دلچسپ داستان جو سرتاج عزیز کو درپیش چیلنج اور اس سے نمٹنے کیلئے بروقت فیصلہ کی صلاحیت کے بعد اس کے طاقتور اثرات کو بیان کرتی ہے، شیر کی علامت نے جماعت کی پہچان کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔
اگر آپ سے پتنگ (ایم کیو ایم) کو ووٹ دینے کا کہا جائے تو آپ نے جواب دینا ہے کہ ہم ’را‘ سے پیسے لے کر پاکستان میں سیاست کرنے والوں کو ووٹ نہیں دیتے، وفاق میں ایک جماعت سیاسی انتقام کیلئے نفرت اور تقسیم کی سیاست کر رہی ہے۔
ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو جاتا، وہ یوتھ جو باشعور ہے اور بڑوں کیلئے عزت و احترام جانتی ہے وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے، ہم انشاءاللّٰه غربت اور بےروزگاری کا خاتمہ کریں گے۔
ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں، ہم کھوکھلے نعرے نہیں لگاتے، ہم سچی اور کھری باتیں کرتے ہیں، ہم انشاءاللّٰه اپنا ہر وعدہ پورا کرتے ہیں، طلال چوہدری کی وفا بےمثال ہے، فیصل آباد میں صرف میٹرو بس نہیں بلکہ اورنج لائن ٹرین بھی ہونی چاہیے۔
On the first anniversary of Marka-e-Haq, Pakistan's military has dismissed the Indian Army Chief's "geography or history" warning as the rhetoric of a state suffering "a bankruptcy of cognitive capacities", and has reminded Delhi that any attempt to target a nuclear neighbour would be neither geographically confined nor politically survivable.
Senior US Congressman Jack Bergman, Co-Chair of the Congressional Pakistan Caucus, has formally thanked Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir for Pakistan's role in the ongoing US-Iran peace negotiations, describing Islamabad's contribution as "indispensable" and a demonstration of "true statesmanship" in a letter dated 15 May and sent on House of Representatives letterhead.
اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی حیثیت نے اسے بیانیے کی جنگ کا ہدف بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے لِنڈسے گراہم کی تنقید تک اور بھارتی میڈیا کے منظم بیانیہ سے پاکستان کے اندر نئے دہشتگردانہ حملوں تک ایک نئی مخالفانہ لَہر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.