نواز شریف کو بار بار اقتدار سے نکالا گیا لیکن انہوں نے کبھی جھوٹا سائفر نہیں لہرایا نہ ریاست پر حملے کیے، تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کے سینے میں کئی قومی راز دفن ہیں مگر وہ کبھی انہیں زبان تک نہیں لائے۔
آٹھ فروری کے الیکشن میں 28 مئی والوں کو ووٹ دے کر پاکستان کو نواز دیں، ہم 28 مئی والے لوگ پاکستان کو سنوارنے والے لوگ ہیں جبکہ 9 مئی والے لوگ پاکستان کو اجاڑنے والے لوگ ہیں۔
کروڑوں عوام کے منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کر دیا گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا، میرا مشن پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
الیکشن تیر اور شیر کے درمیان ہے، تیر اور جیالے میدان میں لیکن شیر بلی کی طرح گھر میں چھپا بیٹھا ہے، چوتھی بار وزیراعظم بننے کی کوشش کرنے والے کے پاس منشور تک نہیں، میں عوام کا حق اسلام آباد سے چھین کر لاؤں گا۔
دوسروں کا احتساب کرتے ہوئے فرعون بننے والے آج جوتیاں چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں، نواز شریف کے تمام دشمن اپنے اصل انجام کو پہنچ رہے ہیں، قدرت کی عدالت نے نواز شریف کے ساتھ ہونے والے مظالم پر سو موٹو ایکشن لے لیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.