پاکستان نیوی نے بھارتی درخواست پر بحیرہ عرب میں پھنسے بھارتی جہاز ”ایم وی گوتم“ کے عملہ کو انسانی بنیادوں پر فوری و تکنیکی امداد فراہم کی۔ پاکستان نیوی نے گزشتہ ماہ بھی بحیرہ عرب میں ایک تجارتی جہاز کے 18 رکنی عملہ کو ریسکیو کیا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ میں مئی میں پاکستان کے خلاف بھارتی فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین اور دور رس نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاک بھارت اسٹوڈنٹس مباحثے میں پاکستانی طلبہ نے 106 کے مقابلے میں 50 ووٹ لے کر دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جبکہ ایک روز قبل آکسفورڈ یونین کے باضابطہ مباحثے سے بھارتی وفد عین وقت پر دستبردار ہو کر پاکستان کو بلا مقابلہ فتح دے چکا تھا، جس سے بھارتی بیانیے کی کمزوری نمایاں ہو گئی۔
سعودی عرب نے 1998 میں پاکستان کو ایٹمی تجربے کے بعد مفت تیل دے کر پابندیوں سے بچایا تھا، مگر اب منظر بدل چکا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس بار مدد لینے نہیں بلکہ دینے ریاض پہنچے جہاں امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرنے والا سعودی عرب جوہری پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں داخل ہو چکا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔
بھارت آپریشن سندور کا فاتح نہیں تھا۔ بھارت کو حجم میں بڑا مُلک ہوتے ہوئے واضح برتری حاصل کرنا چاہیے تھی مگر ایسا نہ ہوا۔ جنگ کے دوران پاکستان تین شعبوں میں بھارت پر حاوی ریا۔ بھارتی طیاروں کے نقصانات انٹیلیجنس ناکامی کا نتیجہ تھے۔
A resolution submitted in the US House of Representatives by Congressman Al Green praises Pakistan’s efforts to facilitate peace between the United States, Israel and Iran, as Islamabad’s role in back-channel diplomacy draws growing attention in Washington.
کسی کو شک ہے تو ہمیں پھر سے آزما لے، ہم کل بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ معرکہِ حق کے بعد پاکستان خطہ میں نیٹ سیکیورٹی سٹیبلائزر کے طور پر مستحکم ہوا ہے۔ کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، کوئی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر
President Donald Trump has cooled expectations of an imminent Islamabad signing ceremony, saying it is “too soon” for such a trip despite signs that US and Iranian negotiators are moving closer to a possible peace framework.