وزیراعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری اور باہمی دلچسپی و علاقائی امور پر گفتگو، متحدہ عرب امارات کے صدر کی جانب سے پاکستان میں 10 ارب ڈالرز سرمایہ کاری کی یقین دہانی۔
پاکستان نے آئی ایم ایف سے باضابطہ طور پر 6 سے 8 ارب ڈالرز کے نئے بیل آؤٹ پیکج کیلئے درخواست کر دی ہے، پاکستان نے مئی میں آئی ایم ایف کا ریویو مشن پاکستان بھجوانے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ آئندہ 3 برس کیلئے بیل آؤٹ پیکج کے معاملات کو طے کیا جا سکے۔
بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان، کینیڈا اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کے اندر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے، را نے 2020 سے اب تک پاکستان میں 20 افراد کو قتل کروایا، انڈین ایجنٹس قتل کی وارداتوں کو متحدہ عرب امارات سے کوآرڈینیٹ کرتے ہیں۔
انڈیا پاکستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ہے، بھارتی ایجنٹس اشوک کمار اور یوگیش کمار نے پاکستان میں شہریوں کو قتل کرایا، پاکستان کے پاس اس حوالہ سے مصدقہ شواہد موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کا مقصد ملک کے اندر بےیقینی اور ناامیدی پھیلانا ہے، درست اور مثبت سوچ کے بغیر معاشرے میں افراتفری پھیلے گی، نوجوان پاکستان کا بڑا اثاثہ ہیں، نوجوان علامہ محمد اقبال اور قائداعظم کے خوابوں کی تعبیر ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.