پاکستان کی جانب سے آج صبح ایران کے اندر دہشتگرد ٹھکانوں پر مؤثر حملے کیے گئے ہیں، پاکستان کی خودمختاری اور کسی بھی مہم جوئی کے خلاف پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہمارا عزم غیرمتزلزل ہے۔
پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی، آپریشن مرگ بر سرمچار کے تحت ایران کے صوبہ سیستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی۔ مصدقہ انٹیلیجنس معلومات پر کی گئی کارروائی قومی سلامتی کو خطرات سے بچانے اور دفاع کے غیرمتزلزل عزم کا مظہر ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ
پاکستانی سرزمین پر ایرانی حملہ ناقابلِ قبول، پاکستان غیر قانونی اقدام کا جواب دینے کا مکمل حق رکھتا ہے، نتائج کی ذمہ داری ایران پر عائد ہو گی، ایرانی سفیر کو پاکستان آنے سے روک دیا، پاکستانی سفیر کو بھی ایران سے واپس بلا لیا۔
ایران کی جانب سے پاکستانی حدود میں حملے پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کا شدید احتجاج، پاکستان کی خودمختاری پر ناقابلِ قبول حملہ قرار دیتے ہوئے ایران کو سنگین نتائج کا عندیہ دے دیا.
عمران خان کا اقتدار میں واپس آنا پاکستان کیلئے معاشی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے تباہ کن ہو گا، عمران خان کی جنونیت اور میسیانک پاپولزم پاکستان کیلئے ڈیڈ اینڈ ہو گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کے تمام شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان کر دیا۔ اورنج لائن ٹرین، میٹروبس سروس، سپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کیلئے ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ کاشت کاروں کیلئے ڈیزل سبسڈی کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
پاکستان قابلِ اعتماد علاقائی شراکت دار اور امریکا و ایران جنگ میں اہم ثالث بن کر اُبھرا ہے۔ ایک برس پہلے تک تنہائی کے شکار پاکستان کیلئے یہ غیر معمولی تبدیلی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ممکن ہوئی۔ عالمی منظر نامہ پر پاکستان کی یہ اہمیت بھارت میں بےچینی پیدا کر رہی ہے۔
Just before Donald Trump was due to address the nation on the Middle East conflict, Iran’s President Masoud Pezeshkian published an open letter to Americans, arguing that Tehran is being falsely cast as a threat and warning that more attacks will bring only suffering, instability and lasting resentment.