پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں مذہبی سیاست اور مسلح انتہا پسندی دونوں ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ ٹی ایل پی سڑکوں پر انتشار پھیلا رہی ہے اور ٹی ٹی پی بندوق کے زور پر ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کا مقصد مختلف مگر نتیجہ ایک ہے پاکستان کی کمزوری۔ اب وقت ہے کہ ریاست ایک ہی معیار اپنائے اور "سب سے پہلے پاکستان" کو نعرے سے بڑھا کر قومی پالیسی بنائے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی واپسی میں ایک شخص کا مرکزی کردار ہے، ریاست اور عوام کو ایسے فرد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل، جھوٹے بیانیے کا سدباب اور خوارج کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے اورکزئی کے علاقے جمال مایہ میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے 30 بھارتی سرپرست خوارج کو ہلاک کردیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں کیا گیا، جب کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
India failed to down any Pakistani aircraft during the recent conflict, while Pakistan’s J-10C fighter jets showcased outstanding performance, shooting down seven Indian planes. Chinese-made weapons, radar, and satellite systems proved highly effective throughout the engagement.
معرکۂ حق میں بھارت پاکستان کا کوئی طیارہ گرانے میں ناکام رہا، جبکہ جے-10 سی طیاروں نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سات بھارتی طیارے مار گرائے۔ مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ جھڑپ کے دوران چینی ساختہ ہتھیاروں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان نے بڑے پیمانے پر چینی ہتھیاروں، ریڈار اور سیٹلائٹ نظام کا مؤثر استعمال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.