آٹھ فروری کے الیکشن میں 28 مئی والوں کو ووٹ دے کر پاکستان کو نواز دیں، ہم 28 مئی والے لوگ پاکستان کو سنوارنے والے لوگ ہیں جبکہ 9 مئی والے لوگ پاکستان کو اجاڑنے والے لوگ ہیں۔
کروڑوں عوام کے منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کر دیا گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا، میرا مشن پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
الیکشن تیر اور شیر کے درمیان ہے، تیر اور جیالے میدان میں لیکن شیر بلی کی طرح گھر میں چھپا بیٹھا ہے، چوتھی بار وزیراعظم بننے کی کوشش کرنے والے کے پاس منشور تک نہیں، میں عوام کا حق اسلام آباد سے چھین کر لاؤں گا۔
دوسروں کا احتساب کرتے ہوئے فرعون بننے والے آج جوتیاں چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں، نواز شریف کے تمام دشمن اپنے اصل انجام کو پہنچ رہے ہیں، قدرت کی عدالت نے نواز شریف کے ساتھ ہونے والے مظالم پر سو موٹو ایکشن لے لیا ہے۔
عمران خان مستقبل میں بھی ملکی سیاست میں نظر نہیں آ رہے، نو مئی کے مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، انتخابات بروقت ہوں گے، ادارہ غلطیوں کا ازالہ کر رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.