جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے تحریکِ عدم اعتماد لانے کیلئے کہا تھا، یہ تحریک پیپلز پارٹی نے چلائی تھی لیکن میں اس کے حق میں نہ تھا، تحریکِ انصاف کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی، اب فیصلے میدان میں ہوں گے۔
مریکہ پاکستان پر مزید دباؤ ڈالے کیونکہ یہ امریکہ کا فرض بنتا ہے، ہم امریکہ کو اس کی ذمہ داری یاد دلا رہے ہیں، امریکہ کو پاکستان میں انتخابی دھاندلی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
تحریکِ انصاف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے انتخابی نتائج کے معاملات میں مداخلت کی درخواست کر دی، تحریکِ انصاف نے عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے جیلوں میں قید پارٹی راہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کر دیا۔
عمران خان نے اپنی طرزِ سیاست سے پاکستان کے اندر خاندانوں میں تقسیم پیدا کر دی ہے، عمران خان کی وجہ سے خاندانوں کے اندر تعلقات اور رشتوں میں دراڑیں پیدا ہوئی ہیں جبکہ یہ تقسیمِ مزید گہری ہو رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.