فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ مایوس کن ہے، ایسا لگتا ہے کہ رپورٹ صرف جنرل (ر) فیض حمید کو کلین چِٹ دینے کیلئے بنائی گئی ہے، اگر فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد ہوتا تو 9 مئی کا سانحہ پیش نہ آتا۔
اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو غیر مستحکم کیا، عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپوزیشن کو ختم کر دینا چاہتا تھا، مسلم لیگ (ن) کو سادہ اکثریت ملتی تو حکومت نواز شریف کی لیڈرشپ میں بنتی، پاکستان کیلئے نواز شریف، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔
میرے خلاف ہیروئن کے جعلی کیس میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ براہِ راست ملوث تھا، عمران خان نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اگست میں ہی جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے دی تھی، میاں نواز شریف نے کہا کہ اب محاذ آرائی بےسود ہے۔
مسلم لیگ ن پنجاب میں قومی اسمبلی کی 120 سے 125 نشستیں حاصل کرے گی، نو مئی والے اگر جرم کا اعتراف کر کے معافی مانگیں تو معافی مل سکتی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ مجرم کو اس لیے چھوڑ دیا جائے کہ اس نے الیکشن لڑنا ہے۔
پاکستان کو مشکلات سے باہر نکالنے کیلئے نواز شریف جیسے آزمودہ لیڈر کی اشد ضرورت ہے۔ شریف 21 اکتوبر کو شام ساڑھے پانچ بجے لاہور پہنچیں گے اور امید کو یقین میں بدلنے کیلئے راستے کا تعین کریں گے۔
On the first anniversary of Marka-e-Haq, Pakistan's military has dismissed the Indian Army Chief's "geography or history" warning as the rhetoric of a state suffering "a bankruptcy of cognitive capacities", and has reminded Delhi that any attempt to target a nuclear neighbour would be neither geographically confined nor politically survivable.
Senior US Congressman Jack Bergman, Co-Chair of the Congressional Pakistan Caucus, has formally thanked Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir for Pakistan's role in the ongoing US-Iran peace negotiations, describing Islamabad's contribution as "indispensable" and a demonstration of "true statesmanship" in a letter dated 15 May and sent on House of Representatives letterhead.
اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی حیثیت نے اسے بیانیے کی جنگ کا ہدف بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کے بیانات سے لِنڈسے گراہم کی تنقید تک اور بھارتی میڈیا کے منظم بیانیہ سے پاکستان کے اندر نئے دہشتگردانہ حملوں تک ایک نئی مخالفانہ لَہر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.