تحریک انصاف کو غم کھائے جارہا ہے اگر معیشت سنبھل گئی تو انکو کون پوچھے گا، 2014 دھرنوں کی صورتحال دوبارہ دہرائی جا رہی ہے جس کا مقصد ملک کی ترقی کو روکنا ہے۔ سیاسی احتجاج اور دھرنوں سے ملکی معیشت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
اقوامِ متحدہ میں عالمی ضمیر جگانے اور پاکستانی عوام کی آواز پوری دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی۔ فلسطین کی حمایت جاری رکھیں گے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ نو مئی ناقابلِ معافی جرم ہے، اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا۔
Prime Minister Shehbaz Sharif's address to the UN General Assembly: "The atrocities and massacre by Israel in Gaza must be stopped, and a Palestinian state should be established with Jerusalem as its capital. The Kashmir issue should be resolved in accordance with UN resolutions. Pakistan will give a decisive response to any Indian aggression."
غزہ میں اسرائیلی مظالم اور قتلِ عام کو روکنا ہو گا، فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، مسئلہ کشمیر کو یو این قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا فیصلہ کُن جواب دے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا یو این جنرل اسمبلی سے خطاب۔
اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی سے روکنا ہو گا، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور تجارت پر پابندیاں عائد کی جائیں، اسرائیلی قیادت کو اسکے جرائم پر قابلِ گرفت ٹھہرایا جائے، سلامتی کونسل جموں و کشمیر کے بگڑتے تنازع کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتی۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔