ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں، ہم کھوکھلے نعرے نہیں لگاتے، ہم سچی اور کھری باتیں کرتے ہیں، ہم انشاءاللّٰه اپنا ہر وعدہ پورا کرتے ہیں، طلال چوہدری کی وفا بےمثال ہے، فیصل آباد میں صرف میٹرو بس نہیں بلکہ اورنج لائن ٹرین بھی ہونی چاہیے۔
ہم نے قسم کھائی ہے کہ ملک و قوم کی خدمت میں سب کچھ کر گزرنا ہے، میرے ساتھ جو ظلم ہوا میں وہ برداشت کر رہا ہوں لیکن جو ظلم عوام کے ساتھ کیا گیا وہ میں برداشت نہیں کر سکتا، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ترقی و خوشحالی کیلئے بہت محنت کرنا پڑے گی۔
ہمیں بار بار اقتدار سے نکالا گیا اور ہم ہر بار جیلیں اور جلاوطنی کاٹ کر واپس آئے، ہم نے 2022 میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کی بھاری سیاسی قیمت ادا کی اور آئندہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہمارا راستہ نہ روکا جانا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات 2024 کیلئے انتخابی منشور پیش کر دیا جس کے مطابق نیب کا ادارہ ختم کیا جائے گا، مالی سال 2025 تک مہنگائی میں 10 فیصد کمی لائی جائے گی جبکہ چار سالوں میں مہنگائی کو 4 سے 6 فیصد تک لایا جائے گا، منشور میں فی کس آمدنی کو پانچ برس میں 2 ہزار ڈالرز کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
نو مئی کی سازش پاکستان کے ساتھ غداری تھی جس ک سرغنہ عمران خان تھا، اس غداری میں فوج اور عدلیہ میں موجود اس کے حواری بھی شامل تھے، نواز شریف نے دھمکیوں کے باوجود پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوں گے۔
Pakistan says the United States and Iran have expressed confidence in its role as a potential facilitator for talks, with Islamabad saying it would be honoured to host negotiations in the coming days.
امریکا و ایران دونوں نے ممکنہ مذاکرات میں سہولت کاری کیلئے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ پاکستان آئندہ چند روز میں ممکنہ مذاکرات میں میزبانی و سہولتکاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراءِ خارجہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خطہ میں امن کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت اور تائید کی۔
امریکا ایران کو مذاکراتی عمل تک لانے والا پاکستان سفارتی محاذ پر غیر معمولی اہمیت حاصل کر رہا ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے۔ پاکستان خطہ کے توازن پر اثرانداز ہوتے ہوئے واشنگٹن، تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
Pakistan is preparing to host the foreign ministers of Saudi Arabia, Turkey and Egypt for bilateral meetings and a four-country diplomatic session in Islamabad that is expected to conclude with a joint communiqué and possibly a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif.
مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اتوار کی صبح، سعودی وزیرِ خارجہ سہ پہر پاکستان پہنچیں گے۔ شام کو چاروں وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہو گی جبکہ عشائیہ کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔