پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کے خلاف ایرانی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اِن ریاستوں کیلئے یکجہتی و حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے ایرانی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سعودی عرب نے یمن میں حالیہ پیش رفت پر متحدہ عرب امارات کی بعض سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مملکت کی قومی سلامتی ایک ریڈ لائن ہے، اور اس کو لاحق کسی بھی خطرے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ یمن کے امن، خودمختاری اور سیاسی استحکام کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
An Indian Air Force Tejas light combat jet crashed during an aerial display at Dubai Airshow 2025, forcing organisers to suspend flying and putting fresh scrutiny on India’s homegrown fighter aircraft programme.
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.