سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ چیف جسٹس
آرٹیکل 63 اے تشریح سے متعلق نظرِثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء ہے، ججز کمیٹی اجلاس میں کوئی رکن شریک نہیں ہونا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے، سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں یہاں صرف مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔









