آئین و قانون کی سمت پیش قدمی

ہوئے ادارے کا ترجمان ذمہ دارانہ سنجیدگی کے ساتھ بتاتا ہے کہ اس ملک میں اب کوئی مارشل لاء نہیں لگے گا بلکہ یہاں تک کھل کر بتا دیتا ھے کہ کوئی ایکسٹینشن زیر غور نہیں اور اعلی عہدے سے ریٹائرمنٹ بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوگی۔

Translating from the Urdu… 0 of 4 Read the original

An illustration shows a series of books labelled 'The Constitution'. — FILE/THE THURSDAY TIMES
An illustration shows a series of books labelled 'The Constitution'. — FILE/THE THURSDAY TIMES

اگر کوئی شخص ہوش و خرد سے مکمل طور پر بیگانہ اور تاریخ سے بے خبر نہیں تو پھر وہ ایسٹبلشمنٹ کے اس کردار سے بھی واقفیت رکھتا ہوگا جس کے سبب اس ملک کی بد بختیوں میں کھبی کوئی کمی نہیں آئی۔ لیکن اگر یہی ایسٹبلشمنٹ بدلتے ہوئے زمانے اور اس کے نتیجے میں ابھرنے والے نئے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے روایتی کردار میں جوہری تبدیلیوں کی سمت پیش قدمی کرے تو دانائی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم جیسے بد لحاظ صحافی بھی ماضی پر طعنہ زنی کی بجائے خوش کن امکان اور امید کا دامن تھام لیں تا کہ “نئے سفر ” کا آغاز الجھاؤ اور اشتعال کی بجائے اعتماد اور اعتبار حاصل کرے۔ کہنے دیجئے کہ یہی ایسٹبلشمنٹ تھی جس کے در و بام سے ماضی قریب میں ثاقب نثار دھرنے ڈان لیکس آر ٹی ایس نیب اور عمران خان اترتے رہے۔ لیکن اب کے یہی ایسٹبلشمنٹ ہے جو ایک باوقار انداز میں آئین اور قانون کے ساتھ کھڑی نظر آئی اور جس نے پارلیمان کے اندر اکثریت کھو دینے والے وزیراعظم کا غیر آئینی ساتھ دینے سے دوٹوک اور واضح طور پر انکار کرتے ہوئے آئین و قانون کا راستہ اپنایا۔ ایک خوشگوار اور قدرے جمہوری منظر نامہ سامنے ہے کہ اب یہی ایسٹبلشمنٹ ہے جس نے ق لیگ باپ اور جی ڈی اے جیسی جماعتوں کو اپنی نرسری سے نکال کر سیاسی میدان اور “فیصلوں کی آزادی” کی طرف دھکیلا۔

یہی ایسٹبلشمنٹ ہے جس نے گیٹ نمبر چار کی فسوں گری اور شیخ رشید ٹائپ سیاسی سرکسیں سجانے کو الوداعی ہاتھ ھلاتے ہوئے خود کو آئین و قانون کے سائے میں ایک با وقار مقام پر لے گیا۔ کھبی عسکری قیادت کی سبکدوشی سے پہلے “رک جانے کی التجا ئیں ” شکریہ اور ملک بچاو جیسے پینا فلیکسز اور پوسٹروں سے شاہراہیں اچانک بھر جاتیں۔

لیکن اب میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ادارے کا ترجمان ذمہ دارانہ سنجیدگی کے ساتھ بتاتا ہے کہ اس ملک میں اب کوئی مارشل لاء نہیں لگے گا بلکہ یہاں تک کھل کر بتا دیتا ھے کہ کوئی ایکسٹینشن زیر غور نہیں اور اعلی عہدے سے ریٹائرمنٹ بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوگی۔ یہی تبدیلی بلکہ ذمہ دارانہ رویہ ہی وہ حوصلہ افزا پیش رفت ہے جس نے آئین و قانون کی سربلندی کے امکان کو توانا کیا۔ تا ہم ایک حصار ٹوٹنے اور قدرے اچانک اس تبدیلی سے مثبت اور منفی عوامل نے بھی پیہم جنم لیا (جو ایک فطری عمل ہے۔)

مثلا عدم اعتماد کے ایک جمہوری اور آئینی عمل کے ذریعے وزارت عظمی سے ہاتھ دھونے والے عمران خان نہ صرف حساس اداروں بلکہ اعلی عدلیہ پر بھی مسلسل الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ یہ ھے کہ خان صاب کی سیاست اول روز سے ہی انہی منطقوں کی ناز برداریوں میں پروان چڑھی حتی کہ اسے (عمران خان ) کو ایک متنازعہ انتخاب کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچایا گیا۔ وہ آر ٹی ایس الیکشن ہو وہ ثاقب نثار کی فراہمی ہو وہ کسی اشارے پر ترین کے جہازوں کی اڑان اور ممبران اسمبلی کو گھیرنا ہو یا وہ چونتیس سے چونسٹھ کو شکست دے کر چیئرمین سینٹ منتخب کروانا ہو۔ نیب کے کمالات اور میڈیا کی نوازشات الگ سے تھیں۔

لیکن نو اپریل کی رات خان صاحب کی سیاست اور زندگی ایک اور بلکہ اجنبی موڑ مڑ گئی۔ اب اسے اپنے ھی بازووں پر سیاست کرنی تھی کسی “مدد ” کے بغیر اور وہ بھی آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہوئے۔ ناز و نعم کی عادی پی ٹی آئی اور عمران خان کے لئے نئے حقائق چونکا دینے والے بھی تھے اور ناقابل قبول بھی۔ اس لئے اپنے طاقتور ” مورچوں ” یعنی عمران خان کی آتش بیانی اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا سے فوری “گولہ باری ” شروع ہوئی جو تا حال جاری ہے اور جس کے اصل ہدف عدلیہ اور عسکری منطقے ہی ہیں۔ تا ہم یہ غبار ایک مقررہ وقت کے بعد ریاستی اقدامات یا فطری عوامل کی وجہ سے خود بخود بیٹھ بھی جائے گا اور اختتام پذیر بھی ہوگا کیونکہ گرد و پیش کے زمینی حقائق اس جذباتی فضا سے یکسر مختلف ہیں جنہیں محض ایک مکارانہ انداز سیاست سے ترتیب دیا گیا ہے۔

لیکن ایسٹبلشمنٹ کی سیاسی منطقوں سے فاصلے اور آئین و قانون کی بالادستی تسلیم کرنے سے ایک خوشگوار جمہوری اور آئینی بالادستی کے نظام کی طرف پہلا قدم اور حد درجہ مثبت انڈی کیشن ہے۔ جسے سمجھنے اور تقویت فراہم کرنے کے لئے بعض اقدامات کو دانائی کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ مثلا ضدی اور اناپرست سابق وزیر اعظم کے آمرانہ طرز عمل کا راستہ روکنے اور آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے والی اعلی عدلیہ ہی تھی۔

جبکہ اب یہ بات بھی راز نہیں رھی کہ یہ عسکری ادارہ ہی تھا جو عمران خان کے کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت تو درکنار بلکہ آئین و قانون کی پاسداری اور تحفظ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہا۔ جس کے سبب عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ممکن ہوئی اور وزیراعظم کو پارلیمان کے ذریعے آئینی طریقے سے برطرف کیا گیا۔ ہم یاد کرتے ہیں کہ ابھی چند سال پہلے نواز شریف اور مریم نواز کے ناموں کے گرد سرخ لکیر کھینچنے کا نعرہ گونجتا رہا۔ ثاقب نثار سے نیب تک ایک تماشا لگا رہا۔ قید و بند سے میڈیا ٹرائل تک جبر ہی جبر تھا۔ ایک احمق جاہلیت کا راج اور سچائی پر خوفناک قدغنیں تھیں۔ لیکن اس سے ملکی تضحیک معیشت کی تباہی اداروں کی توہین خوفناک مہنگائی بد ترین کرپشن اور تہذیبی بربادی کے علاوہ کون سا ثمر ہاتھ آیا؟

اگر زمانے کے ارتقائی عمل اور بدلتے ہوئے منظر نامے کے حقائق کو ایک دانش اور بصیرت کے ساتھ کے ساتھ سمجھنے کی کوشش بھی کی جا ریی ہے اور مستقبل کا بیانیہ اسی دانائی سے ترتیب بھی پانے لگا ہے۔ تو ہر ذی شعور اور ذمہ دار شہری پر اس کا خراج بھی فرض ہے اور مدد بھی۔ تا ہم کسی مجنوں مزاج گروہ اور حقائق کے ادراک سے نا شناسا ہجوم کی رائے کی اہمیت کیا؟ تاریخ ہمیشہ دانش اور دانائی کا ساتھ دیتی ہے اور اسی سے ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

∎

Hammad Hassan

Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.

More by this writer

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.