پیپلز پارٹی کے چئیرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ شہید بینظیر بھٹو کی 15ویں برسی پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید بینظیر بھٹو غریبوں کی آواز مظلوموں کی نمائندہ جمہوریت کی علمبردار آمریت کیلئے خوف کی علامت تھیں۔
چئیرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آمریت بندوق کی طاقت سے عوام کی آزادی چھینتی ہے عوام کے حقوق سلب کرتی ہے جبکہ دہشتگرد خوف پھیلا کر عوام کے خون کی ہولی سجا کر خوف کا ماحول بنا کر کبھی مذہب اور کبھی قوم پرستی کو استعمال کرکے عوام کے حقوق سلب کرتے ہیں۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے سابق صدر پرویز مشرف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ مشرف تھا لیکن شہید بینظیر بھٹو ہے۔
چئیرمین پیپلز پارٹی نے سابق وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں امریکہ یا وائٹ ہاوس نے سازش کرکے نہیں بالکہ بلاول ہاوس کی سازش نے نکالا ہے تمہیں بند کمروں کی سازش نے نہیں بالکہ عوام کے سامنے پارلیمان میں کھڑے ہوکر نکالا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جیسے مشرف کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکالا ویسے ہی اس سیلیکٹڈ کو دودھ میں سے مکھی کی طرح عدم اعتماد کرکے باہر نکالا ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بزدل کی کوشش ہے کہ فوج کو سیاست میں گھسیٹا جائے یہی تو جہ ہے کہ چھپ چھپ کر وڈیو پر تقاریرکرتے ہیں بے نظیر کیلئے بھی وڈیو تقریر کا آپشن تھا مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا لیکن یہ بزدل بنی گالہ میں چھپ گیا اور اپنی سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہے کہ ادارہ اپنے نیوٹرل ہونے کے وعدے پر چلے ہم نے ہر غیر جمہوری سازش کو ناکام بنایا اسے بھی بنائیں گے ہم اس کٹھ پتلی کا ہمیشہ کیلئے بندوبست کرنے پر تیار ہیں انکی کوشش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ورغلایا جائے کھلم کھلا آرٹیکل چھے کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔