سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر عون چوہدری کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی نااہلی سے قبل ہمیں پتہ چل چکا تھا کہ جہانگیر ترین کو نااہل کیا جارہا ہے اور عمران خان کو صادق و امین قرار دیا جارہا ہے یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ عمران خان کو جن پیپرز کو بنیاد بنا کر صادق و امین قرار دلوایا وہ نامکمل تھے جو پیپر جمائما خان نے عمران خان کو بھیجے وہ تو بینک دس برس قبل ہی بند ہوچکا تھا۔
جہانگیر ترین کی نااہلی پر بات کرتے ہوئے عون چوہدری نے کہا کہ جہانگیر ترین کی ریویو پٹیشن کو ریجیکٹ کروانے کیلئے بطور وزیراعظم عمران خان نے ثاقب نثار کو فون کیا کہ اسکو ریجیکٹ کردیا جائے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ عمران خان سابق آرمی چیف جنرل باجوہ سے 2017 میں ملاقاتیں کرنے جاتے تھے اورآج جنرل باجوہ کو باتیں کرنیوالے عمران خان اقتدار کیلئے جنرل باجوہ کے گوڈے گٹے پکڑتے رہے۔
عون چوہدری نے انکشاف کیا کہ عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے میرے سامنے جہانگیر ترین کو کہا کہ میں جادوگرنی نہیں ہوں۔
انکا مزید کہنا تھا کہ جو مرشد بنا لیتا وہ بشری بی بی کی گڈ بکس میں آجاتا جس کو گھر سے کلئیرنس ملتی تھی وہ عمران خان کا فیورٹ بن جاتا تھا کیونکہ وہ عمران خان کے گھر بشری بی بی سے بیعت لیکر آجاتے تھے۔
اس موقع پر عون چوہدری نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھانے سے ایک رات قبل مجھے فون کرکے کہا کہ آپ نے حلف برداری پر نہیں آنا کیونکہ بشری بی بی نے خواب دیکھا ہے کہ آپکو نہیں آنا چاہیے اسلئے آپ نہ آئیں۔
عون چوہدری نے کہا کہ جب میں نے عمران خان کو بتایا کہ کہ فرح اور جمیل گجر پنجاب میں ہر کام کے پیسے لیتے ہیں تو انہوں نے سن کر کہا یہ تو ٹھیک نہیں لیکن اسکے ایک ماہ بعد عمران خان نے مجھے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔