شہباز شریف نے ہمارا امتحان لیا اب امتحان دینے اور ٹینشن لینے کی اس کی باری ہے، عمران خان

شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی میں ہمارا امتحان لیا اب ہم اس کا امتحان لیں گے اور اس سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں گے اور اسکے علاوہ بھی ان کو سرپرائز دینگے شہباز شریف کو اتنی ٹینش دوں گا کہ اسکو اب نیند کی گولی کھانی پڑیگی

Translating from the Urdu… 0 of 3 Read the original

A file photo is shown of PTI president Imran Khan. — HUM News
A file photo is shown of PTI president Imran Khan. — HUM News

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پختونخواہ اسمبلی بھی ایک ہفتہ کے اندر اندر تحلیل کردی جائیگی یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی

عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی میں ہمارا امتحان لیا اب ہم اس کا امتحان لیں گے اور اس سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں گے اور اسکے علاوہ بھی ان کو سرپرائز دینگے شہباز شریف کو اتنی ٹینش دوں گا کہ اسکو اب نیند کی گولی کھانی پڑیگی

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کیلئے ہمارے کئی ممبران گبھرائے ہوئے تھے لیکن ہمارے چیف وہپ علی عباس پراعتماد تھے کہ ہمارا نمبر پورا ہوگا ہمارے ممبران کو گمنام نمبروں سے کالز آئیں انکو دھمکیاں دی گئیں کہ ن لیگ میں چلے جائیں لیکن ہمارے ممبران ڈٹے رہے

عمران خان نے کہا کہ ہم نے رات کو دس بجے فیصلہ کیا کہ اعتماد کا ووٹ لیا جائے اورہم اس میں کامیاب رہے انہوں نے مزید کہا کہ نے کہا کہ جس طرح پرویز الہی ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں اس پر ہماری تمام جماعت بہت خوش ہے اور ہم نے انکو کہا ہے کہ وہ ق لیگ کو تحریک انصاف میں ضم کردیں

سربراہ تحریک انصاف نے کہا کہ اس مرتبہ الیکشن میں تحریک انصاف کا ٹکٹ جیتے گا

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پولیٹکل انجیئنرنگ کا آغاز کردیا گیا ہے جس کی مثال ایم کیوایم کو اکٹھا کرنا ہے

عمران خان نے کہا کہ اس الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتبار نہیں یہ ایک ایجنڈے پر کام کررہا ہے اگر اس میں اسطرح کے غلط

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک کمزور حکومت لانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اگر ایسا کیا گیا تو میں آئیندہ کبھی کمزور حکومت میں نہیں بیٹھوں گا کیونکہ مجھے اس کا پہلے کوئی اچھا تجربہ نہیں ہوا

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ جنرل باجوہ ایک نہیں بالکہ دو تھے ایک جنرل باجوہ ایکسٹنشن سے پہلے بڑے مددگار تھے انکا رویہ بالکل مختلف تھا لیکن جب جنرل باجوہ کو ایکسٹینش دی تو وہ بدل گئے انہوں نے کہا کہ احتساب کو چھوڑیں اور معیشت پر توجہ دیں جنرل باجوہ نے رنگ ہی بدل لیا نیب کو جنرل باجوہ کنٹرول کرتے تھے لیکن گالیاں مجھے پڑتی تھی

عمرنا خان نے کہا کہ میرے ممبران سے کہا گیا کہ عمران خان کو بھول جاو ہم نے عمران خان پر کاٹا ڈال دیا ہے لیکن شاید بھول گئے کہ مجیب الرحمان پر بھی کاٹا ڈالا گیا ضیا الحق نے پیپلز پارٹی پر بھی کاٹا ڈالا اکبر بگٹی پربھی کاٹا ڈالا گیا لیکن نتیجہ کیا نکلا

انہوں نے کہا مجھ سے اعظم سواتی سے شہبازگل سے جو کچھ ہوا اس پر معافی مانگیں ہم انکو معاف کرنے کیلئے تیار ہیں

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.