بھارت اگر شکست کی خفت براستہ کابل مٹانے کی کوشش کریگا تو بھارت و افغانستان دونوں قیمت چکائیں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف

افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے بھارتی ایما پر ہو رہے ہیں اور ان کے سہولت کار بھی بھارتی ہیں۔ اگر بھارت پاکستان سے اپنی شکست کی خفت براستہ کابل مٹانے کی کوشش کرے گا تو نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی تمام کارروائیاں دراصل بھارت کی ایما پر کی جا رہی ہیں اور ان کے سہولت کار بھی بھارتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہی بھارت جس نے پاکستان کے ساتھ جنگ میں سخت خفت برداشت کی، اب افغان زمین استعمال کر کے اپنی یہ خفت کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خواجہ آصف نے طالبان کے حوالے سے اپنے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “طالبان کی حکومت بننے پر جو میں نے ٹویٹ کیا تھا، آج اسے جواز نہیں دے سکتا۔” انہوں نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں کی حکومت پہلے ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں اور اگر وہ ضمانت دے بھی دے تو طویل مدتی طور پر اس پر قائم نہیں رہے گی، اس لیے مذاکرات کا فائدہ محدود نظر آتا ہے۔

وزیرِ دفاع نے خیبرپختونخواہ میں اٹھنے والی آوازوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے بیانات دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نے سابق دورِ حکومت میں طے پانے والے معاملات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ “عمران خان کے دور میں فیض حمید افغانستان میں صرف چائے پینے نہیں گئے تھے بلکہ انہوں نے وہاں طالبان قیادت کو بلٹ پروف گاڑیاں بھی فراہم کیں۔ جب انہیں واپس لایا گیا تو اُن کی تعداد چار گنا بڑھ گئی اور نئے ٹھکانے قائم کیے گئے۔”

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ “افغان طالبان اور تحریکِ تحرّیکِ پاکستان (ٹی ٹی پی) الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہیں” اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ افغان لیڈرشپ نئی دہلی میں مذاکرات کی پیشکش کر رہی ہے — “کیا اب یہ بھی بھارت کی اجازت سے ہی کوئی قدم اٹھائیں گے؟” انہوں نے مزید کہا کہ “جن طالبان کے ہاتھ ہمارے بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ان کے ساتھ پہلے ‘سکور سیٹل’ ہوگا اور پھر بات چیت کی جا سکتی ہے۔”

وزیرِ دفاع نے عمران خان کی جانب سے بعض افراد کی حمایت پر بھی کڑی ریمارکس دیے اور کہا کہ “جو لوگ کھل کر طالبان کا ساتھ لیتے ہیں اور انہیں صوبائی وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے، وہ حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستانی بچوں اور فوجی جوانوں کے قاتلوں سے حساب ضرور لیا جائے گا۔”

خواجہ آصف نے انتباہ بھی جاری کیا کہ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو “ایسے عناصر کو افغانستان کے اندر جا کر نشانہ بنایا جائے گا” اور جو بھی پاکستانیوں کا خون بہا کر افغانستان میں پناہ لینے کی کوشش کرے گا وہ بچ کر نہیں رہ سکے گا بلکہ اسے قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر افغان حکومت یہ سوچتی ہے کہ بھارت ہمارے ساتھ کوئی ‘سکور سیٹل’ کرا دے گا تو اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور افغانستان کو بھی اس کی قیمت بھگتنا پڑ سکتی ہے۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: