انقرہ (تھرسڈے ٹائمز) — ترکیہ اپنی پارلیمنٹ سے ایسی منظوری لینے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے تحت فوجی اہلکاروں کو سعودی عرب بھیجا جا سکے، یہ تعیناتی اس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہو گی جس پر ترکیہ نے اگست میں ریاض اور اسلام آباد کے ساتھ دستخط کیے تھے۔ حکمراں جماعت اے کے پارٹی کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے بدھ کو رائٹرز کو یہ بات بتائی۔
اس رکنِ پارلیمنٹ نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا کہ یہ منظوری پارلیمنٹ کو اسی وقت بھیجی جائے گی جب وہ معاہدے کی توثیق کے بل کو منظور کر لے گی۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے توثیق کا یہ بل منگل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے اہلکار بھیجے جا سکتے ہیں، وہ کیا کردار ادا کریں گے، یا کسی تعیناتی کا وقت کیا ہو سکتا ہے۔
یہ خبر لکھے جانے تک انقرہ، ریاض یا اسلام آباد کی جانب سے اس منصوبے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا تھا۔
معاہدے میں کیا کہا گیا ہے
ولی عہد محمد بن سلمان، صدر رجب طیب ایردوان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ کے قصرِ الصفا میں معاہدے پر دستخط کیے۔ تینوں ممالک کے مشترکہ بیان کے مطابق، معاہدے کی شقوں کے تحت “تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف کسی بھی مسلح حملے کو ان سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔”
معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا، جس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔ تینوں ممالک نے وہاں اتفاق کیا کہ سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی ایک سیکریٹری جنرل کرے گا۔ ڈار نے معاہدے کو “خالصتاً دفاعی نوعیت” کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دیگر ممالک بھی اس کے اصولوں کی پاسداری کریں تو اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ترکیہ کی قومی اسمبلی کے اسپیکر نعمان کرتلمش نے نئے قانون ساز اجلاس سے قبل کہا کہ معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری ہے، اور انہوں نے اس کے تحت اب تک ہونے والی ملاقاتوں کو تیاری کے مرحلے کی ملاقاتیں قرار دیا۔
حملوں کی زد میں گھرا ایک ملک
رائٹرز کے مطابق اس اقدام سے نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج ریاض کے ساتھ باقاعدہ باہمی دفاعی عہد کے قریب آ جائے گی، جبکہ سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کے باعث ایئر لائنز پہلے ہی پروازوں کی معطلی میں 2027 تک توسیع کر چکی ہیں۔
پاکستان، جس نے ستمبر 2025 میں ریاض میں سعودی عرب کے ساتھ الگ سے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، کہہ چکا ہے کہ وہ مملکت کے دفاع کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوا کرے گا۔ ترکیہ اور پاکستان ان چار ممالک میں بھی شامل تھے جنہوں نے بدھ کو قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ مل کر دوحہ میں بدر دفاعی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔∎



