آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، اس معاہدے کیلئے وزیراعظم صاحب نے بہت محنت کی ہے اور اس حوالے سے پچھلے 10 دن بہت اہم تھے، پاکستان سری لنکا بننے والا ملک نہیں ہے، اگر آئی ایم ایف نہ بھی ہوتا تب بھی ہم ڈیفالٹ نہ کرتے، ہمارے پاس پلان بی موجود تھا۔
یہ لمحہِ فخریہ نہیں بلکہ لمحہِ فکریہ ہے، قرضوں سے قومیں ترقی نہیں کیا کرتیں بلکہ یہ ہماری مجبوری ہے کہ ان حالات میں ایسا کرنا پڑا، دعا کریں کہ یہ آخری موقع ہو کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام کا حصہ ہوں، اللّٰہ کرے کہ ہمیں دوبارہ اس کے پاس نہ جانا پڑے۔
سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل کے پہلے اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹیں دور کرے گی، یہ کونسل سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈو کا کردار ادا کرے گی جبکہ زراعت، لائیو سٹاک، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صلاحیتوں کے علاوہ توانائی اور زرعی پیداوار میں بھی اصل ملکی صلاحیت سے استفادہ کیا جائے گا۔
اس پروگرام کے تحت 93 لاکھ خاندانوں کو 8750 روہے فی سہ ماہی کے حساب سے بینظیر کفالت کیش ٹرانسفر کی سہولت میسر ہو گی جس کیلئے 346 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ افراطِ زر کی مماثلت سے اس میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ نئے بجٹ میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے سنتھیٹک فلامنٹ یارن پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے اور اسی طرح پیٹ سکریپ پر بھی کسٹم ڈیوٹی کو 20 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کیا جا رہا ہے جبکہ کپیسیٹرز، ایدھیسیو ٹیپ، مائننگ مشینری، رائس مل مشینری اور مشین ٹولز کے مینوفیکچررز کو بھی کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔