Judicial

چیف جسٹس کا انتخاب پہلے 3 ججز میں سے ہو گا، مدتِ ملازمت 3 برس ہو گی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ

چیف جسٹس کا انتخاب پہلے 3 ججز میں سے ہو گا، مدتِ ملازمت 3 برس ہو گی۔ سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچز بنیں گے۔ ایک چیف جسٹس نے سوموٹو کے دروازے کھول دیئے، منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیجا گئے، ہم نے یہ سلسلہ بند کرنا ہے، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ۔

حکومت کے پاس آئینی ترمیم کیلئے نمبرز پورے ہیں، ہم اتفاقِ رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری

حکومت کے پاس آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت موجود ہے مگر حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاقِ رائے چاہتی ہے، میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاقِ رائے قائم ہو لیکن اگر اتفاقِ رائے نہ ہوا تو حکومت کا یہ مؤقف درست ہو گا کہ وقت ضائع نہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، عدالتی فیصلے کے خلاف نظرِثانی درخواستیں منظور کر لی گئیں، تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔

کسی کو بینچ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کر سکتا، مرضی کے بینچز والے زمانے چلے گئے۔ چیف جسٹس

لوگوں کو یہاں مرضی کے بینچز کی عادت ہے لیکن وہ زمانے چلے گئے، میں کسی کو بینچ میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کر سکتا، یہاں فیصلوں کو رجسٹرار سے ختم کروایا جاتا رہا، کیا ماضی میں یہاں سینیارٹی پر بینچز بنتے رہے؟

سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔ چیف جسٹس

آرٹیکل 63 اے تشریح سے متعلق نظرِثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیرِ التواء ہے، ججز کمیٹی اجلاس میں کوئی رکن شریک نہیں ہونا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے، سپریم کورٹ کام کرنا بند نہیں کر سکتی، ہمیں یہاں صرف مقدمات کے فیصلے کرنے کی تنخواہ ملتی ہے۔

Thursday Studios

Looking to advertise?

With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.

error: