Islamabad and Rawalpindi have found themselves trapped in a strange political theatre: roads sealed, schools disrupted, businesses hit and ordinary routines broken, all in anticipation of talks between American and Iranian delegations that keep being delayed.
Zohran Mamdani is not Pakistani, yet he has stirred a rare warmth in Pakistan. His comfort with Urdu and Hindustani, his visible Muslim identity and his wider South Asian cultural ease have made him feel less like a distant foreign politician and more like someone many Pakistanis instinctively understand.
دہشتگردی کے خلاف جنگ؛ خیبرپختونخوا پولیس کی بہادری و قربانیاں بےمثال مگر صوبائی حکومت کی کمزور حکمتِ عملی اور استعداد و وسائل ناکافی ہیں۔ وی ائی پی پروٹوکولز، سیاسی مداخلت اور کمزور ڈھانچے کی قیمت میدانِ جنگ میں جوانوں کے خون سے ادا کرنا پڑتی ہے۔
What confronts Pakistan today is a hybridised militant ecosystem strengthened by transnational financing, external sanctuaries and the diffusion of advanced weaponry left behind in Afghanistan after the withdrawal of foreign powers.
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت اور بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ؛ بنگلہ دیشی مؤقف کی حمایت میں پاکستان کا قومی وقار، اصولی مؤقف اور کھلاڑیوں کی سلامتی کے پیشِ نظر فیصلہ عالمی کرکٹ میں عدم مساوات اور دوہرے معیار کے خلاف واضح پیغام ہے۔
کروڑوں عوام کے منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کر دیا گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان آج ایشین ٹائیگر ہوتا، میرا مشن پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا اور ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
الیکشن تیر اور شیر کے درمیان ہے، تیر اور جیالے میدان میں لیکن شیر بلی کی طرح گھر میں چھپا بیٹھا ہے، چوتھی بار وزیراعظم بننے کی کوشش کرنے والے کے پاس منشور تک نہیں، میں عوام کا حق اسلام آباد سے چھین کر لاؤں گا۔
حکومت ختم ہونے کے بعد جنرل قمر باجوہ سے ایوانِ صدر میں دو بار مذاکرات ہوئے، جنرل باجوہ نے کہا اچھے بچے بن جاؤ دو تہائی اکثریت دلاؤں گا، پلان سی تیار ہے 8 فروری کو پتہ لگ جائے گا، میں نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی۔
دوسروں کا احتساب کرتے ہوئے فرعون بننے والے آج جوتیاں چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں، نواز شریف کے تمام دشمن اپنے اصل انجام کو پہنچ رہے ہیں، قدرت کی عدالت نے نواز شریف کے ساتھ ہونے والے مظالم پر سو موٹو ایکشن لے لیا ہے۔
عمران خان مستقبل میں بھی ملکی سیاست میں نظر نہیں آ رہے، نو مئی کے مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، انتخابات بروقت ہوں گے، ادارہ غلطیوں کا ازالہ کر رہا ہے۔