Trump may be isolating the U.S. from the world, tearing up alliances and redrawing the map on his own terms, but as others scramble for relevance, Pakistan has walked out the front door of the White House with an oil deal in hand, signalling a comeback for Pakistan's place on the American mantle.
بھارت ’’معرکہِ حق‘‘ میں شکست کے بعد اپنی مذموم سازشوں کیلئے پراکسی وار بڑھا رہا ہے، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان بھارت کی ہائبرڈ وار کے مہرے ہیں، پاک فوج ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہر دم تیار ہے۔
Trump may not win the Nobel. Oslo may smile and move on. But Pakistan has already reclaimed what it truly sought: relevance. The gesture may seem excessive, but it’s a quiet re-entry into a room it refuses to be locked out of: a step back into Washington’s good graces.
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ حکومت کا ہے فوج کا نہیں، یہ فیصلہ میرا ہے جس کیلئے میاں نواز شریف کے ساتھ مشاورت شامل ہے، جنگ کے دوران اسرائیل کے ہتھیار اور فوجی ایڈوائزرز بھارت کی بھرپور مدد کر رہے تھے۔
پاکستانی عوام سعودی عرب کیلئے گہری عزت اور محبت رکھتے ہیں، سعودی عرب کے بڑے تجارتی وفد کا دورہِ پاکستان دونوں ممالک کے مابین پائیدار اور برادرانہ تعلقات کی تصدیق کرتا ہے۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔