سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بہت خراب تھے مگر میں نے دونوں کے درمیان تعلقات کو بحال کروایا، سعودی شہزادہ محمد بن سلمان نے مجھے ایران بھیجا تاکہ میں وہاں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بہتر بنانے کیلئے بات کروں جبکہ یمن اور سعودی عرب کی جنگ بھی میں نے ہی ختم کروائی تھی۔
سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل کے پہلے اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹیں دور کرے گی، یہ کونسل سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈو کا کردار ادا کرے گی جبکہ زراعت، لائیو سٹاک، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صلاحیتوں کے علاوہ توانائی اور زرعی پیداوار میں بھی اصل ملکی صلاحیت سے استفادہ کیا جائے گا۔
میں آرمی چیف سے اور اسٹیبلشمنٹ سے کہتا ہوں کہ مجھ سے بات چیت کریں لیکن کوئی مجھ سے بات چیت کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چور دروازے سے اقتدار میں نہیں آنا چاہتا۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیرِ صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں تمام فارمیشن کمانڈرز کے علاوہ کور کمانڈرز اور پرنسپل سٹاف آفیسرز نے بھی شرکت کی۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔