عمران خان کو 2 ہفتوں میں رہا نہ کیا تو خدا کی قسم ہم خود رہا کریں گے، کوئی رکاوٹ بنا تو ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹوں گا، فیض حمید کیا ہمیں وراثت یا جہیز میں ملا؟ تمہارا جنرل تھا، اپنا ادارہ ٹھیک کرو ورنہ ہم ٹھیک کریں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ مارشل کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، دہشتگردوں اور سہولتکاروں کے خلاف رواں برس 32 ہزار 173 آپریشنز کیے گئے، ریاست شہریوں کے جان و مان اور ترقی کے دشمنوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف
آئی ایس پی آر کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل کے سلسلہ میں 3 ریٹائرڈ افسران کو فوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر حراست میں لے لیا گیا، تینوں ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں سے مزید تفتیش جاری ہے۔
عزم استحکام ملٹری آپریشن نہیں بلکہ مہم ہے، ایک سیاسی مافیا اپنے مفادات کیلئے اس کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے، عدالتی نطام 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو ڈھیل دے رہا ہے، ڈیجیٹل دہشتگرد جھوٹ اور فیک نیوز کے ذریعہ اضطراب پھیلا کر اپنی مرضی مسلط کرتا ہے۔
سانحہ 9 مئی کے مجرموں کو آئین و قانون کے مطابق سزائیں دینا ضروری ہے ورنہ یہاں کسی کی جان، مال اور آبرو محفوظ نہ رہیں گے، انتشاری ٹولے سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی، پاکستان میں فوجی اڈے کسی کو دیئے گئے نہ دیئے جائیں گے۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.