جنگی ڈھول کی تھاپ پر نشے میں دھت دنیا کے اندر خاموش مصلحت اور غیر معمولی اعصاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ میں مؤثر، مضبوط اور بااعتماد انداز میں پاکستان کا مؤقف اجاگر کر دیا ہے۔
نریندر مودی ایک بزدل، مفاد پرست اور ڈرپوک لیڈر ہے، جس میں پاکستان پر حملے کی ہمت نہیں۔ پہلگام حملے کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، کشمیریوں کے خلاف امتیازی کارروائی اور میڈیا کی خاموشی افسوسناک ہے۔
Pakistan's military denounced the Indian Army Chief's accusations as baseless, calling them a distraction from India's Kashmir abuses. The ISPR criticised India's double standards and exposed its covert operations.
بھارتی آرمی چیف کا بیان حقائق کے منافی اور بھارتی شکست خوردہ مؤقف کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش ہے، پاکستان پر دہشتگردی کی ریاستی سرپرستی کا الزام بھارتی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
Pakistan’s DG-ISPR slammed past political missteps for empowering terrorism, exposed Afghanistan's role in cross-border militancy, and reaffirmed the army's unwavering commitment to eradicating threats amid escalating regional tensions with India.
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔