میں عوامی خدمت کیلئے آلو پیاز ٹماٹر کی قیمتیں چیک کرنے اور کم کرنے آئی ہوں، جتنے کام میں 100 دنوں میں کر آئی ہوں مخالفین 300 برس میں نہیں کر سکتے، اپوزیشن پر ترس آتا ہے، انکے پاس گالم گلوچ و نعروں کے سوا کچھ نہیں۔
امریکہ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے، ہم امریکی جنگوں میں ساتھ دینے کے نتائج بھگت رہے ہیں، آج فلسطینیوں کا جو قتلِ عام ہو رہا ہے، اس کا سب سے بڑا سہولت کار امریکہ ہے۔
پاکستانی سٹاک مارکیٹ ایشیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ بن گئی، رواں برس ڈالر کے لحاظ سے 27 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، روپیہ مستحکم ہوا ہے جبکہ افراطِ زر میں کمی سے شرح سود میں بھی کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
عمران خان کا ایجنڈا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور فتنہ و فساد پھیلانے کا ہے، پاکستان کی سلامتی اور بہتری اسی میں ہے کہ عمران خان جیل میں رہے، عمران خان جمہوریت پر نہیں بلکہ فسطائیت پر یقین رکھتا ہے۔
آپریشن عزمِ استحکام کے سیاسی مقاصد نہیں، سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کریں گے، پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی، آپریشن دہشتگردی کی بڑھتی لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے ہے، کامیابی کیلئے تمام اداروں کی حمایت ضروری ہے۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔