آئینی ترمیم کیلئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ عدالتی اصلاحات کے نکات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، دیگر نکات پر مزید مشاورت کی جائے گی، آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ کو بالاتر رکھا جائے، ایسی ترامیم لائی جائیں جو اداروں میں اصلاحات کا سبب بنیں۔
مولانا فضل الرحمٰن
حکومت کے پاس آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت موجود ہے مگر حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاقِ رائے چاہتی ہے، میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاقِ رائے قائم ہو لیکن اگر اتفاقِ رائے نہ ہوا تو حکومت کا یہ مؤقف درست ہو گا کہ وقت ضائع نہ کیا جائے۔
تمام جمہوری قوتوں کو مل کر پارلیمنٹ کے ذریعہ ایسا نظامِ عدل وضع کرنا ہے جس میں فردِ واحد جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتار کر مُلک و قوم کو سیاہ اندھیروں کے سپرد نہ کر سکے، میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنا درست فیصلہ تھا جس سے مُلک میں جمہوریت کو استحکام ملا۔
آئین کو ایک آنکھ کی لرزش اور ہونٹوں کی جنبش سے اڑایا جاتا رہا، نواز شریف اور یوسف گیلانی کو 58 ٹو بی سے گھر بھیجا گیا، ہم آئینی عدالت بنا کر رہیں گے تاکہ کسی اور وزیراعظم کو تختہ دار پر نہ لٹکایا جائے، آئین کی بالادستی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔
میثاقِ جمہوریت کے تحت آئینی عدالت قائم ہونی چاہیے جس کا مینڈیٹ آئینی معاملات کی تشریح ہو گا، ججز کی تعیناتی کا نظام بھی درست کرنا ہے، ججز کا کام ڈیم بنانا یا قیمتیں طے کرنا نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہے، ججز تقرری عمل میں شفافیت بےنظیر بھٹو کا مطالبہ تھا۔
The US Supreme Court ruled that President Trump’s sweeping emergency tariffs were unlawful, curbing a signature trade strategy and opening the door to large-scale refund claims from businesses that paid the duties.
واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے باہر سِکھ کارکنوں کا مظاہرہ، پنجاب کی بھارتی قبضہ سے آزادی کیلئے ’’خالصتان ریفرنڈم‘‘ کا مطالبہ کر دیا۔ مظاہرین نے ’’بورڈ آف پیس میں خالصتان تحریک کی شمولیت‘‘ کی صورت میں 1 بلین ڈالرز تعاون کی پیشکش بھی کر دی۔
More than 357,000 educated young people in IOJK are unemployed while thousands of sanctioned government posts remain vacant. The scale of the backlog suggests a structural hiring freeze that contradicts official claims of economic progress in the region.
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔